پی ٹی اے کا 99 فیصد اطمینان کا دعویٰ قومی اسمبلی کمیٹی نے مسترد کر دیا ، حکومت کا فائیو جی نیلامی کا ہدف مقرر
- شراکت داروں نے خبردار کیا کہ نیلامی میں تاخیر سروس کے معیار میں مزید کمی اور ڈیجیٹل ترقی کو متاثر کر سکتی ہے
خراب ہوتی موبائل سروس کے معیار پر عوامی ناراضگی کے درمیان ملک میں طویل انتظار کے بعد ہونے والی فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی سے پہلے نیلامی ایڈوائزری کمیٹی نے منگل کو تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکومت اب اسے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں نیلام کرنے کا ہدف رکھ رہی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ و محصول محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیلامی کی تیاری، اسپیکٹرم کی دستیابی اور مارکیٹ کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جبکہ عوامی ناراضگی میں اضافہ کے پیش نظر موبائل سروس کے معیار میں کمی پر بھی بات کی گئی۔
پی ٹی اے نے فائیوجی کے لیے جامع سیکیورٹی رہنما اصول بھی جاری کیے۔ اگرچہ صارفین کے لیے ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، تقریباً 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم غیر فعال پڑی ہے، جبکہ صارفین کال ڈراپ، سست ڈیٹا اسپیڈ اور نیٹ ورک بھیڑ کا سامنا کر رہے ہیں۔
موجودہ وقت میں صرف 274 میگاہرٹز اسپیکٹرم تقریباً 2 کروڑ صارفین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہے، جس سے نیٹ ورکس پر دباؤ واضح ہوتا ہے۔
علاقائی موازنہ بھی تشویشناک ہے، جہاں بنگلہ دیش نے 173 ملین صارفین کے لیے تقریباً 700 میگاہرٹز اسپیکٹرم مختص کر رکھا ہے، جو پاکستان میں موجودہ گنجائش کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
حکام نے کہا کہ غیر فعال اسپیکٹرم کو فعال کرنا سروس کے معیار کو بہتر بنانے اور اگلی نسل کے نیٹ ورکس کے لیے ناگزیر ہے۔
متوقع فائیوجی نیلامی اہم موڑ ثابت ہوگی، تاہم شراکت داروں نے خبردار کیا کہ تاخیر سروس کی خرابی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور ڈیجیٹل ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اعلیٰ قیادت کو بریفنگ دی جانے والی ہے، جس میں ٹائم لائن، ریزرو قیمتیں اور غیر فعال اسپیکٹرم کی ریلیز پر فیصلے کیے جائیں گے، جو یہ طے کریں گے کہ صارفین 2026 سے پہلے بہتر کنیکٹیویٹی کا فائدہ دیکھ پائیں گے یا موجودہ خراب سروس جاری رہے گی۔
اسی دوران قومی اسمبلی کی آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن اسٹینڈنگ کمیٹی نے منگل کو ملک کی انٹرنیٹ اور ٹیلی کام خدمات پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی اے پر سرکاری رپورٹس اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پر شدید تنقید کی گئی۔
پی ٹی اے نے اپنی کوالٹی آف سروس (کیو او ایس) رپورٹ میں موبائل سگنلز سے متعلق 99 فیصد اطمینان کا دعویٰ کیا، جسے کمیٹی نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔
اراکین نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور کمزور موبائل سگنلز کے پیش نظر یہ دعویٰ ناقابل فہم ہے۔ کمیٹی نے رپورٹ کو ’’حماقت پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے ڈیٹا کی صداقت پر سوالات اٹھائے اور پی ٹی اے کی سروے میتھڈولوجی پر بھی تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ مستقبل میں کیو او سی سرویز آزاد تیسرے فریق سے کروائی جائیں ،تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں عام صارفین کے مسائل پر بھی بات ہوئی، جہاں رکن پولین بلوچ نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی اے بنیادی موبائل سگنلز فراہم نہیں کر سکتی تو شہری مدد کیلئے کہاں جائیں ؟
اجلاس کے اختتام پر واضح پیغام یہ دیا گیا کہ قومی اسمبلی کمیٹی پی ٹی اے کی کارکردگی سے ناخوش ہے، جبکہ موجودہ سگنل ڈراپس اور سست انٹرنیٹ اسپیڈ صورتحال کی حقیقی عکاسی کر رہی ہیں۔


Comments