وائٹ ہائوس فائرنگ، نیشنل گارڈ کی اہلکار ہلاک، حملہ سیاسی تنازعہ کی صورت اختیار کر گیا
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعہ کو بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسی میں خامیوں کی وجہ قرار دیا
وائٹ ہاؤس کے قریب ہونے والے حملے میں ایک نیشنل گارڈ کا اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آور افغان نژاد شہری تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسی میں خامیوں کا ذمہ دار قرار دیا اور پناہ گزین کیسز کا وسیع جائزہ لینے کا حکم دیا۔
20 سالہ سارہ بیکسٹروم اپنے زخموں کے باعث ہلاک ہو گئی جبکہ 24 سالہ اینڈریو وولف زندگی کی بازی لڑ رہے ہیں۔ حملے کے بعد ایف بی آئی نے مشتبہ ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے واشنگٹن اسٹیٹ میں گھر کی تلاشی لی اور موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کیے۔ ملزم 2021 میں امریکہ میں سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت آیا تھا اور اس سے قبل افغانستان میں سی آئی اے کی معاون یونٹ کا حصہ تھا۔
واشنگٹن ڈی سی کی امریکی اٹارنی جینین پیرو کے مطابق ملزم نے ملک کے مختلف حصوں سے گاڑی چلائی اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حملہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملہ ایک وحشیانہ سانحہ ہے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
حملہ آور نے .357 میگنم ریوولور سے فائرنگ کی اور بعد میں دیگر فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوا، جبکہ وہ اسپتال میں سنگین حالت میں ہے۔ حملہ آور نے بظاہر اکیلے کارروائی کی اور اس کا خاندان واشنگٹن میں مقیم ہے۔
وزارت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق رحمان اللہ لکنوال 2021 میں بائیڈن دور کے پروگرام ”آپریشن الائیز ویلکم“ کے تحت امریکہ آیا، جو افغانستان میں امریکی مدد کرنے والوں کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ اور دیگر حکام نے الزام لگایا کہ پناہ گزین کے داخلے کے نظام میں کمزوریاں ہیں، جبکہ کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
اس واقعے کے بعد امریکہ میں پناہ گزین اور گرین کارڈ کے کیسز کا وسیع جائزہ شروع کر دیا گیا ہے اور وزارت انصاف نے ملزم کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید یا ممکنہ طور پر سزائے موت کے اقدامات کی وضاحت کی ہے۔


Comments
Comments are closed.