اہم شعبوں پر اشرافیہ کا قبضہ پاکستان کو اربوں کا نقصانات پہنچا رہا ہے، آئی ایم ایف کا انکشاف
- چینی، رئیل اسٹیٹ، زراعت اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں اشرافیہ کے مضبوط مفادات ملک کے اصلاحاتی عمل کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے شعبوں میں اشرافیہ کے قبضے(ایلیٹ کیپچر) کے دائرے کو ظاہر کرتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ چینی، رئیل اسٹیٹ، زراعت اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں اشرافیہ کے مضبوط مفادات ملک کے اصلاحاتی عمل کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔
ٹیکنیکل اسسٹنس رپورٹ، پاکستان گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ جو جمعرات کی شب فنانس ڈویژن کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی، گنے کی صنعت کو ایک واضح مثال کے طور پر پیش کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی اشرافیہ اور ریاستی ریگولیٹرز کے آپس میں جُڑے تعلقات عوامی فوائد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں عام عوام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق گنے کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں دہائیوں تک حکومت کی سازگار پالیسیوں، سبسڈیز اور ریگولیٹری خالی جگہوں سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ صنعت کے طاقتور افراد اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان تعلقات ہیں۔
شوگر ملز کے مالکان، جن میں سے کئی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں، نے گنے کی قیمتیں اور حفاظتی ٹیرف ایسے مقرر کیے کہ ان کے کاروبار منافع بخش رہیں، حالانکہ اس سے مسابقت متاثر ہوئی۔
ایلیٹ کیپچر کی اصطلاح اُس عمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جس میں طاقتور، دولت مند یا سیاسی طور پر بااثر گروہ عوامی پالیسیوں اور وسائل کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو اکثر عام عوام کے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی اور وسائل قبضے میں لے لیے جاتے ہیں اور غیر متناسب طور پر اشرافیہ کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں، جبکہ وسیع تر عوام اس سے محروم رہتے ہیں۔
انہوں نے برآمدات اور قیمتوں کے تعین کی پالیسیوں پر بھی اثر ڈالا تاکہ وہ اپنے فائدے میں رہیں۔ 2018–19 میں حکومت کے فیصلے کے تحت چینی کی بڑی مقدار برآمد کی گئی، یہاں تک کہ سبسڈی بھی دی گئی، جس سے مقامی سطح پر قلت اور صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اسی طرح کی مراعات رئیل اسٹیٹ میں بھی نظر آتی ہیں، جہاں فراخدلانہ ٹیکس چھوٹ سے محصولات متاثر ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، حال ہی تک زرعی آمدنی پر ٹیکس نہیں لگایا گیا، جبکہ رئیل اسٹیٹ، مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبے اب بھی سازگار ٹیکس انتظامات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ اس طرح کے ٹیکس اخراجات سے ہونے والا ٹیکس نقصان کافی زیادہ ہے، جس کا اندازہ حکومت نے مالی سال 2023 میں جی ڈی پی کے 4.61 فیصد پر لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ترجیحی سلوک کی پالیسی پاکستان کے کم ٹیکس-ٹو-جی ڈی پی تناسب اور مالیاتی چیلنجز میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قوانین اور پالیسیوں کا منتخب اور من مانا نفاذ طاقتور قوتوں کو اقتصادی فیصلوں پر اثر ڈالنے اور عوام و نجی شعبے کی اقتصادی ممکنات کو شکل دینے کے قابل بناتا ہے۔
آئی ایم ایف نے تاریخی طور پر نوٹ کیا کہ پاکستان کی اقتصادی اشرافیہ نے زمین پر کنٹرول کے ذریعے اپنی طاقت کو مستحکم کیا، جو نوآبادیاتی پالیسیوں کی ایک میراث ہے جس نے زمین داروں کو ترجیح دی۔
آزادی کے بعد ان پالیسیوں کا تسلسل اشرافیہ کے قبضے کو مزید گنجائش فراہم کرنے کے ساتھ وسیع اقتصادی سرگرمیوں پر مستحکم کرتا گیا۔
2020 کی یو این ڈی پی رپورٹ کے حوالے سے، جس میں تخمینہ لگایا گیا کہ صرف کارپوریٹ شعبے کے لیے اشرافیہ کی مراعات 4.7 ارب ڈالر کے برابر ہیں، جبکہ مزید 1.7 ارب ڈالر دیگر شعبوں کے لیے ہے۔
آئی ایم ایف نے انتباہ دیا کہ بغیر ان مراعات کو ختم کیے پاکستان کی اقتصادی استحکام کی کوششیں ان مفادات کی وجہ سے بار بار متاثر ہو سکتی ہیں جو طویل عرصے سے ملک کی سیاسی معیشت کی تشکیل کرتے آئے ہیں۔


Comments
Comments are closed.