BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.23 (0.39%)
BIPL 25.43 Increased By ▲ 0.23 (0.91%)
BOP 34.51 Increased By ▲ 0.52 (1.53%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 196.09 Increased By ▲ 3.12 (1.62%)
FABL 89.99 Increased By ▲ 0.20 (0.22%)
FCCL 53.37 Increased By ▲ 0.54 (1.02%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
GGL 19.07 Increased By ▲ 0.10 (0.53%)
HBL 287.15 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
HUBC 215.38 Increased By ▲ 1.00 (0.47%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.51 Increased By ▲ 1.00 (1.16%)
OGDC 322.50 Increased By ▲ 2.54 (0.79%)
PAEL 40.24 Increased By ▲ 0.82 (2.08%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.48 (2.88%)
PIOC 272.00 Increased By ▲ 5.94 (2.23%)
PPL 230.48 Increased By ▲ 2.30 (1.01%)
PRL 34.94 Increased By ▲ 0.26 (0.75%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.66 Increased By ▲ 0.38 (4.59%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 70.09 Increased By ▲ 0.38 (0.55%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

تیل کی قیمتوں میں بروقت کمی

شائع November 12, 2025 اپ ڈیٹ November 12, 2025 04:17pm

تیل کی قیمتیں دوبارہ کم ہوئی ہیں اور اس بار یہ گراوٹ مختلف محسوس ہو رہی ہے۔ برینٹ کروڈ کا 60 ڈالر فی بیرل کی کم سے درمیانی سطح پر منڈلانا، توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے راحت کا ایک غیر متوقع ذریعہ بن گیا ہے اور پاکستان، جو اپنے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور درآمدی بل میں اضافے سے پریشان ہے، اس سے بہتر وقت کی توقع نہیں کر سکتا تھا ۔ ایک ایسے سیزن میں جب بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہیں، یہ معیشت کے لیے ایک لائف لائن ہے جس کی اس نے منصوبہ بندی نہیں کی تھی لیکن اسے شدید ضرورت تھی۔

تاہم اس راحت کے پیچھے کی وجہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے، عالمی تیل کی منڈیوں میں ساختی اضافے کی تمام علامات موجود ہیں۔ یہاں تک کہ جب اوپیک پلس نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے اپنے منصوبہ بند پیداواری اضافے کو روکنے پر اتفاق کیا، ایک ایسا اقدام جس کا مقصد مارکیٹ کے جذبات کو مستحکم کرنا تھا، تب بھی قیمتیں بمشکل متاثر ہوئیں۔

مارکیٹ کا خاموش ردعمل اوپیک کے سرکاری بیان سے کہیں زیادہ کچھ کہتا ہے: دنیا خام تیل سے لبالب بھری ہوئی ہے۔ امریکہ، برازیل، اور کینیڈا جیسے غیر اوپیک پلیئرز کی پیداوار مستحکم ہے جبکہ پابندیوں کے شکار روس کی پیداوار بھی توقع سے زیادہ مضبوط/مستحکم ثابت ہوئی ہے۔

سروے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر میں اوپیک کی اپنی پیداوار میں بھی معمولی اضافہ ہوا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب قیمتیں کمزور ہوں تو کارٹیل (اوپیک) کے لیے انضباط نافذ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

طلب کے حوالے سے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق آئندہ سال روزانہ ایک ملین بیرل سے کم اضافہ متوقع ہے جو بڑھتی ہوئی پیداوار کو جذب کرنے کے لیے کافی نہیں۔ چین میں ریفائنری کی سرگرمیاں سست ہوئی ہیں، یورپی مانگ جمود کا شکار ہے اور امریکہ میں کھپت انتخابات سے قبل ایک سطح پر مستحکم ہوگئی ہے۔

بلند شرح سود اور مدھم مینوفیکچرنگ کے امکانات نے بڑی معیشتوں میں طلب کو کمزور کردیا ہے جبکہ فوسل فیولز سے ہٹ کر طویل مدتی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات مثبت خبریں، چاہے وہ امریکہ–چین تجارتی تعلقات کی توقعات ہوں یا عراق میں لوک اوائل کی فورس میجر کی عارضی رکاوٹ بھی مارکیٹ کی سمت بدلنے میں ناکام رہی ہیں۔

فیوچرز مارکیٹ بھی یہی تصویر دکھاتی ہے۔ برینٹ میں پہلے جو شدید بیک وارڈیشن تھی، جہاں ٹریڈرز نے فوری بیرل کے لیے پریمیم ادا کیا، وہ ہموار ہو گئی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ فزیکل قلت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ذخائر بڑھ رہے ہیں اور ہر مختصر تیزی فروخت کی ایک دیوار سے ملتی ہے، یہاں تک کہ مستحکم ڈالر بھی امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تیل کو زیادہ مہنگا بنا کر قیمتوں پر ہلکا سا دباؤ ڈال رہا ہے۔مختصر یہ کہ مارکیٹ کا جذبہ نازک رہ گیا ہے اور اب سرمایہ کار یہ نہیں سمجھتے کہ اوپیک مارکیٹ کی کہانی کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس کے اثرات واضح اور قلیل مدتی میں زیادہ تر مثبت ہیں۔ تیل ملک کی سب سے بڑی درآمدی شے ہے اور سستا خام تیل براہِ راست کرنٹ اکاؤنٹ کے بوجھ کو کم کرتا ہے۔

لیکن خطرہ غفلت میں ہے۔ تیل کی ایک نرم مارکیٹ (کم قیمتیں) اطمینان کا فریب پیدا کرسکتی ہے، جو پالیسی سازوں کو مشکل توانائی اصلاحات جن میں قیمتوں میں شفافیت سے لے کر قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی شامل ہیں کو مؤخر کرنے پر مائل کر سکتی ہے۔ اس موقع کو اس کے بجائے ذخائر کی دوبارہ تعمیر اور اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

تیل کی قیمتیں آخرکار مستحکم ہوں گی۔ 60 ڈالر سے نیچے، امریکی شیل پروڈیوسرز ممکنہ طور پر ڈرلنگ کم کریں گے جو قیمتوں کے لیے ایک قدرتی کف فراہم کرے گا۔

جب ایسا ہو جائے گا تو یہی طریقہ کار جو پاکستان کے درآمدی بل کو سہارا دے رہا ہے، تیزی سے الٹ ہو سکتا ہے۔ تب تک، عالمی تیل کی منڈی مزید نیچے کی طرف بہنے کے لیے تیار نظر آتی ہے — ایک غیر یقینی سکون ہے جسے درآمد کنندگان خاموشی سے خوش آمدید کہیں گے، جبکہ پروڈیوسرز بے چین ہو جائیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.