ایس آئی ایف سی کے حکام کے مطابق پاکستان کا توانائی شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، کیونکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے کی جانے والی اہم اصلاحات نے خودانحصاری، گردشی قرضے میں کمی، اور توانائی پیداوار و تلاش کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ پالیسی سطح پر اصلاحات کے ذریعے توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
علاقائی طلب کو پورا کرنے کے لیے سکھر اور جنوبی سندھ میں بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ اسی دوران سعودی عرب اور چین کے تعاون سے ہائیڈرو اور سولر توانائی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں، جو پاکستان کے صاف اور پائیدار توانائی ذرائع کی جانب منتقلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی حکام کے مطابق، شنگھائی الیکٹرک نے تھر کوئلہ بلاک میں بڑی سرمایہ کاری کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ بران فیلڈ ریفائنریز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی ایندھن کی پیداوار میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار میں کمی لائی جا سکے۔
ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ماری پیٹرولیم، اٹک، وزیرستان اور دادو میں نئے گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، جو توانائی میں خودکفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ایس آئی ایف سی حکام نے زور دیا کہ کونسل کی سہولت کاری اور اسٹریٹجک اصلاحات کے باعث پاکستان کا توانائی شعبہ اب ترقی، پائیداری اور طویل المدتی خودمختاری کی واضح راہ پر گامزن ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.