BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.61%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.56%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.44 Increased By ▲ 0.24 (0.95%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 196.25 Increased By ▲ 3.28 (1.7%)
FABL 90.20 Increased By ▲ 0.41 (0.46%)
FCCL 53.61 Increased By ▲ 0.78 (1.48%)
FFL 18.14 Increased By ▲ 0.19 (1.06%)
GGL 19.10 Increased By ▲ 0.13 (0.69%)
HBL 287.40 Increased By ▲ 1.90 (0.67%)
HUBC 215.15 Increased By ▲ 0.77 (0.36%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 28.19 Increased By ▲ 0.30 (1.08%)
MLCF 87.80 Increased By ▲ 1.29 (1.49%)
OGDC 322.80 Increased By ▲ 2.84 (0.89%)
PAEL 39.62 Increased By ▲ 0.20 (0.51%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 230.00 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
PRL 34.88 Increased By ▲ 0.20 (0.58%)
SNGP 99.40 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
SSGC 26.96 Increased By ▲ 0.36 (1.35%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.36 Increased By ▲ 0.14 (1.7%)
TRG 70.50 Increased By ▲ 0.79 (1.13%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

آئی ایم ایف مذاکرات نتیجہ خیز، وزیر خزانہ نے امریکہ کے دورے کو فیصلہ کن قرار دے دیا

  • ترقی کی راہ میں قیادت نجی شعبے کو کرنی ہے، ہمارا کام صرف بہتر ماحول فراہم کرنا ہے، وزیر خزانہ
شائع October 11, 2025 اپ ڈیٹ October 11, 2025 11:05am

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ حالیہ مذاکرات مثبت رہے ہیں اور صرف چند معاملات پر بات چیت باقی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آئندہ واشنگٹن کے دورے کے دوران اسٹاف لیول معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

کراچی میں ایک کاروباری اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے جس میں سعودی عرب کے ایک وفد نے شرکت کی اور جس کی میزبانی اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان بزنس کونسل نے مشترکہ طور پر کی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی اور مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے دیے گئے ظہرانے کے دوران شہزادہ منصور اور سعودی وفد سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کردار سہولت کار کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کی راہ میں قیادت نجی شعبے کو کرنی ہے، ہمارا کام صرف بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مجموعی اقتصادی استحکام کی علامات پر روشنی ڈالی جن میں بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کے درمیان یکسانیت، بہتر مالیاتی حالات اور مستحکم زرمبادلہ کا نظام شامل ہیں۔ حالیہ 500 ملین ڈالر یورو بانڈ ادائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جب معیشت مستحکم ہو تو اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ بن جاتے ہیں، کسی قسم کا ڈرامہ نہیں ہوتا۔

وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ اقتصادی استحکام کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حکومت ساختی اصلاحات پر بھی کام کررہی ہے، خصوصاً ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں، جس کے لیے نجی شعبے سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اصلاحاتی پالیسیوں کی تشکیل میں او آئی سی سی آئی اور پی بی سی کی اہم تجاویز اور کردار کو سراہا۔

محمد اورنگزیب نے وزیر التویجری کی رہنمائی میں سعودی عرب کے ساتھ ترقی پذیر اسٹریٹجک شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور مملکت کے وژن 2030 کو کامیاب عمل درآمد کی ایک مثالی مثال قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کی کابینہ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سیکیورٹی معاہدے کی منظوری دے دی ہے جسے انہوں نے دوطرفہ تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے سعودی وفد کے دورۂ پاکستان کو بروقت اور انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کو سازگار عوامل کے ایک منفرد امتزاج کا فائدہ حاصل ہے جن میں مجموعی اقتصادی استحکام اور مثبت جیوپولیٹیکل رجحان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، چین اور امریکہ جیسے طویل المدتی شراکت دار پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔

ملکی سطح پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگارہی ہے اور بحالی کے کاموں کے لیے بیرونی امداد پر غور کرنے سے قبل مقامی وسائل سے فوری ریلیف کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے وزیراعظم کی زیر قیادت جاری اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹیکس نظام میں جامع تبدیلی اور ڈیجیٹل و کیش لیس معیشت کے قیام کے لیے ملک گیر اقدامات شامل ہیں۔

محمد اورنگزیب نے اس جانب توجہ دلائی کہ پاکستان کی معیشت کا تقریباً نصف حصہ غیر دستاویزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم معیشت کے غیر دستاویزی حصے کو بھی شامل کریں تو ہماری معیشت کا حقیقی حجم تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے قریب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن اور دستاویز بندی ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کراچی اور لاہور میں سعودی وفد کے ملاقاتوں اور سرگرمیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ریاض میں آئندہ ہونے والی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس کے دوران سعودی قیادت سے دوبارہ ملاقات کے منتظر ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

Comments

Comments are closed.