خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو کمی دیکھی گئی کیونکہ اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں متوقع اضافے اور عراق کے کردستان علاقے سے ترکیہ کی طرف تیل کی برآمدات کی دوبارہ بحالی نے مارکیٹ میں تیل کی رسد بڑھنے کے خدشات کو تقویت دی۔
برینٹ کروڈ کے نومبر کے لیے سودے 54 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 67.43 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جبکہ دسمبر کے معاہدے کی قیمت بھی 53 سینٹ یا 0.8 فیصد گر کر 66.56 ڈالر فی بیرل رہی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 50 سینٹ یا 0.8 فیصد کمی کے بعد 62.95 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کیا گیا۔
یہ کمی پیر کو ہونے والی 3 فیصد سے زائد یومیہ کمی کا تسلسل ہے جو یکم اگست 2025 کے بعد برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے لیے سب سے بڑی یومیہ گراوٹ تھی۔
آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کلائنٹس کو بھیجے گئے نوٹ میں کہا کہ قیمتوں میں کمی اس وقت دیکھی گئی جب عراق کے کردستان علاقے نے ہفتے کے اختتام پر خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کیں اور رپورٹس سامنے آئیں کہ اوپیک پلس اپنی آئندہ میٹنگ میں نومبر کے لیے پیداوار میں اضافے کی منظوری دے سکتا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اتوار کو ہونے والی اجلاس میں اوپیک پلس کم از کم 137,000 بیرل یومیہ اضافی پیداوار کی منظوری دے گا۔
ماریکس کے تجزیہ کار ایڈ میر نے کہا کہ اگرچہ اوپیک پلس اپنے کوٹہ کے تحت ہی ہے مگر مارکیٹ پھر بھی اس حقیقت کو پسند نہیں کرتی کہ مزید تیل مارکیٹ میں آ رہا ہے۔


Comments
Comments are closed.