وزارت خزانہ نے جمعرات کو کہا کہ حکومت کا 1.225 ٹریلین روپے کا گردشی قرضہ (سرکلر ڈیٹ) حل کرنے کا منصوبہ بجلی صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالے گا۔ اس قرض کی ادائیگی پہلے سے ہی لگائے گئے 3.23 روپے فی یونٹ کے سرچارج کے ذریعے کی جائے گی۔
ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ وہ 1,225 ارب روپے کے بجلی شعبے کے گردشی قرضے کے کامیاب حل کو خوش آمدید کہتی ہے۔ یہ کامیابی وزیر اعظم کے پاور ٹاسک فورس کی قیادت میں وزارت توانائی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور 18 شراکت دار بینکوں کی مشترکہ کوششوں سے حاصل ہوئی ہے۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ یہ تاریخی ری اسٹرکچرنگ پاکستان کے توانائی شعبے کے سب سے دائمی چیلنجز میں سے ایک کو حل کرنے میں ایک بڑی کامیابی کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس اقدام کی قیادت وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کی، جبکہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی اور ٹاسک فورس کے تمام اراکین نے اس کی بھرپور حمایت کی۔
معاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے موجودہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ شامل ہے تاکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے واجب الادا بقایاجات ادا کیے جاسکیں۔
وزارت نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اس قرض کی تنظیم نو سے صارفین پر کوئی نیا بوجھ نہیں پڑے گا، کیونکہ ادائیگی پہلے سے عائد 3.23 روپے فی یونٹ کے سرچارج کے ذریعے کی جائے گی۔
اس کے علاوہ معاہدے کے نتیجے میں 660 ارب روپے کی خودمختار ضمانتیں بھی جاری ہو گئی ہیں، جس سے زراعت، ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار)، ہاؤسنگ، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں میں نقد رقم فراہم کی جائے گی۔
اس موقع پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ حل مالیاتی نظم و ضبط کی بحالی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور توانائی شعبے کی پائیداری کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ کامیابی پاکستان کے ساختی مسائل کو جدت، اتحاد اور عزم کے ساتھ حل کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ حکومت کے توانائی کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے غیر متزلزل عزم اور مالیاتی استحکام کو توانائی شعبے کی اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔


Comments
Comments are closed.