امریکا میں کمزور طلب اور عالمی سطح پر زائد رسد کے خدشات کے باعث جمعرات کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں حملوں اور یوکرین میں جاری روسی جنگ سے متعلق تشویش کو پسِ پشت ڈال دیا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 14 سینٹ یا 0.21 فیصد کمی کے ساتھ 67.35 ڈالر فی بیرل پر آگئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز بھی 15 سینٹ یا 0.24 فیصد گھٹ کر 63.53 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
بدھ کو بینچ مارک کانٹریکٹس میں فی بیرل ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کی بڑی وجہ قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملہ اور پولینڈ کا اپنے اور نیٹو کے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کرنا تھا تاکہ روسی ڈرونز کو نشانہ بنایا جا سکے جو مغربی یوکرین پر حملے کے دوران اس کی فضائی حدود میں داخل ہوگئے تھے۔
رواں ماہ کے بیشتر حصے میں تیل کی قیمتوں میں جاری اضافے کا سلسلہ بدھ کو بھی برقرار رہا، جو 5 ستمبر کو تین ماہ کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد اوپر کی جانب بڑھ رہا ہے۔
تاہم ان دونوں واقعات سے خام تیل کی رسد میں کسی فوری رکاوٹ کا خطرہ لاحق نہیں ہوا اور اب مارکیٹ کی توجہ طلب ورسد کے توازن پر مرکوز ہے، جہاں بڑھتے ہوئے تیل کے ذخائر، پیداوار کنندگان کی قیمتوں میں کمی اور سست ہوتا ہوا لیبر مارکیٹ امریکی معیشت کے نرم پڑنے کی نشاندہی کررہے ہیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 5 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر 39 لاکھ بیرل بڑھ گئے، جب کہ ماہرین ایک لاکھ بیرل کمی کی توقع کررہے تھے۔
اسی طرح پٹرول کے ذخائر بھی بڑھ کر 15 لاکھ بیرل تک پہنچ گئے حالانکہ 2 لاکھ بیرل کمی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
معاشی سست روی کے باعث امکان ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو آئندہ ہفتے شرح سود میں کمی کرے گا۔
کیپیٹل اکنامکس میں نارتھ امریکہ کے ڈپٹی چیف اکانومسٹ اسٹیفن براؤن نے ایک نوٹ میں کہا کہ مزدور منڈی کی نرم ہوتی صورتحال کا مطلب ہے کہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی اگلے ہفتے 25 بیسس پوائنٹس کمی کے حق میں ووٹ دے گی، اگرچہ 50 بیسس پوائنٹس کمی کے لیے شاذ و نادر ہی تین ارکان کی مخالفت ہی سرخیوں میں جگہ بنا سکتی ہے۔
دوسری جانب یورپی سینٹرل بینک جمعرات کو اپنی شرح سود کو برقرار رکھنے والا ہے۔
اوپیک پلس نے اتوار کے روز اکتوبر سے پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ یہ اضافہ گزشتہ مہینوں اور بعض توقعات کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اس فیصلے نے تیل کی مارکیٹ کی کمزوری میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے اس ہفتے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں آنے والے مہینوں میں نمایاں طور پر کم ہوں گی کیونکہ پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تیل کے ذخائر بڑھ جائیں گے۔
یوریشیا گروپ کنسلٹنسی نے ایک نوٹ میں کہا کہ گرتی ہوئی قیمتوں اور جمود کا شکار تیل کی طلب کے باوجود، تیل پیدا کرنے والے ممالک—جن کی قیادت اوپیک پلس کر رہا ہے—پیداوار بڑھا رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2025 کے آخر تک مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہونے کا امکان ہے، جس سے رسد ضرورت سے زیادہ ہو جائے گی اور خام تیل کی قیمتیں مزید نیچے چلی جائیں گی۔


Comments
Comments are closed.