ٹی سی پی کے ذریعے چینی کی درآمد: آئی ایم ایف نے 47 فیصد ٹیکسز اور ڈیوٹی ریلیف کی منظوری دیدی
- اب سرکاری چینی کی درآمد پر 5 فیصد ٹیکس لاگو، نجی شعبے پر تمام ٹیکس برقرار
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قومی اسمبلی کی کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان ٹریڈنگ کارپوریشن (ٹی سی پی) کے ذریعے چینی کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں 47 فیصد رعایت کی منظوری دے دی ہے، اب سرکاری شعبے کی درآمدات پر صرف 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ نجی شعبے پر تمام ٹیکس برقرار رہیں گے۔
کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر کے رکن ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے بتایا کہ چینی کی درآمد پر عام طور پر 47.5 فیصد ٹیکس عائد ہوتے ہیں جن میں 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، 3 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور 6.5 فیصد انکم ٹیکس شامل ہیں۔
تاہم، آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد حکومت نے سرکاری شعبے کی جانب سے کی جانے والی چینی کی درآمد پر یہ ڈیوٹیاں ختم کردی ہیں اور اب صرف 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ ڈاکٹر حمید عتیق سرور نے تصدیق کی کہ آئی ایم ایف نے سرکاری شعبے کی درآمدات پر یہ ٹیکس ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
ڈاکٹر سرور نے زور دیا کہ چونکہ پاکستان نے 2021 سے چینی درآمد نہیں کی، اس لیے یہ ٹیکس عملاً وصول نہیں کیے جا رہے تھے۔ نئی چھوٹ خاص طور پر سرکاری شعبے کی درآمدات کے لیے ہے، جبکہ نجی شعبے کی چینی درآمدات پر مکمل ٹیکس لاگو رہے گا۔
وزارت صنعت و پیداوار کے ایڈیشنل سیکریٹری آصف سعید خان لغمانی نے کمیٹی کو بتایا کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) کی سفارشات کی روشنی میں کیا۔ ایس اے بی میں مختلف وزارتوں، صوبائی کین کمشنرز، ایف بی آر، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) اور گنے کے کاشتکاروں کی نمائندگی شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا اور یہ ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی تھا۔ اس سسٹم نے 5 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن کے بفر اسٹاک — جو ایک ماہ کی ملکی کھپت کے برابر ہے — کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی چینی کی برآمد کی سفارش کی۔
ڈاکٹر سرور نے وضاحت کی کہ حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کی ہے اور صرف 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جسے انہوں نے لاگت کے لحاظ سے متوازن حکمت عملی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ گنے میں متوقع 10 فیصد کے مقابلے میں 6.5 سے 8 فیصد تک کم سکروز مواد ہی پیداوار کی کمی کی بنیادی وجہ ہے۔
انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مؤثر طریقے سے کام کررہا ہے اور 81 میں سے 79 شوگر ملز کی پیداوار اور ریلیز کا ڈیٹا فعال طور پر مانیٹر کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر سرور نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں کوئی خرابی نہیں ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ مستقبل کی پیش گوئیوں کی بنیاد پر فیصلے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملیں روزانہ 18 ہزار میٹرک ٹن چینی مارکیٹ میں جاری کررہی ہیں۔
اگرچہ انہوں نے اس سال کی چینی کی پیداوار کے امکانات پر امید ظاہر کی لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ سیلاب سے جڑی غیر یقینی صورتحال کے باعث حتمی اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ وزارت خوراک کے ایک نمائندے نے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں میں سے 7 برس پاکستان میں چینی کی قیمتیں عالمی قیمتوں سے زیادہ رہیں تاہم 2021 سے 2023 تک ملکی قیمتیں بین الاقوامی منڈی کے مقابلے میں کم رہیں۔
پینل کے کنوینر نے نشاندہی کی کہ فریٹ اخراجات سمیت پاکستان میں چینی کی قیمت اس وقت تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔ درآمد شدہ چینی کی لینڈڈ قیمت تمام ٹیکسز سمیت 197 روپے فی کلوگرام ہے۔
پینل کے رکن فرحان چشتی نے شوگر ملوں پر قیمتوں کے تعین اور کارٹیل سازی پر عائد جرمانوں کے بارے میں استفسار کیا، جس پر حکام نے بتایا کہ اربوں روپے کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے ایک نمائندے نے پینل کو آگاہ کیا کہ 2009 میں اور پھر 2019 سے 2021 کے دوران کی گئی دو تحقیقات میں پی ایس ایم اے اور انفرادی شوگر ملوں کی جانب سے قیمتوں میں ہیرا پھیری اور کارٹیل سازی کے واضح شواہد ملے ہیں۔
سی سی پی نے مجموعی طور پر 44 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے، لیکن اپیلیٹ ٹربیونل کے تقسیم شدہ فیصلے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ کمیشن کو بھیج دیا گیا جس میں اُس وقت کی چیئرپرسن نے فیصلہ کن ووٹ دیا تھا ۔
سی سی پی کے عہدیدار نے کہا کہ اگر پی ایس ایم اے اور شوگر ملوں نے قیمتوں میں ہیرا پھیری سے اربوں کمائے تو سی سی پی نے بھی اربوں میں جرمانے عائد کیے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بھی 191 کمپنیوں، بشمول شوگر ملوں، کے ڈائریکٹرز کی تازہ ترین فہرست اُن کے حالیہ قانونی اندراجات کی بنیاد پر فراہم کی۔
ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی زیر صدارت پینل نے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کی سربراہی میں شوگر سیکٹر کے ڈیریگولیشن سے متعلق کمیٹی کی تازہ ترین میٹنگ منٹس بھی طلب کیے تاکہ انہیں آئندہ پالیسی سفارشات میں شامل کرنے کے لیے جائزہ لیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.