امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو یقین دلایا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی معاہدے میں امریکہ یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دینے میں مدد کرے گا، تاہم امداد کی تفصیلات فی الحال واضح نہیں۔
یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ایک غیر معمولی سربراہی اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں ٹرمپ نے زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کی میزبانی کی۔
اجلاس ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی حالیہ ملاقات کے چند روز بعد منعقد ہوا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ سلامتی کے معاملے پر بھرپور تعاون ہوگا اور یورپی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
زیلنسکی نے اس یقین دہانی کو بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے 7 سے 10 دن میں ضمانتوں کو باضابطہ شکل دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین نے تقریباً 90 ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش کی ہے۔
اجلاس کا ماحول فروری کے سخت رویے کے برعکس خوشگوار رہا، جب ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر کھلی تنقید کی تھی۔ تاہم امن معاہدہ فی الحال دور نظر آ رہا ہے کیونکہ روس نے نیٹو افواج کی تعیناتی کو مسترد کردیا ہے۔
ٹرمپ اور زیلنسکی نے پیوٹن سے ممکنہ سہ فریقی مذاکرات کی امید ظاہر کی جو جرمن چانسلر کے مطابق آئندہ دو ہفتوں میں ہنگری میں ہوسکتے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے جنگ بندی کو مذاکرات کی شرط قرار دیا لیکن ٹرمپ نے جامع امن معاہدے پر زور دیا۔


Comments
Comments are closed.