اوپیک پلس کی ستمبر میں پیداوار بڑھانے کی منظوری کے بعد تیل کی قیمتیں گر گئیں
عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جب اوپیک پلس نے ستمبر میں تیل کی پیداوار میں مزید بڑا اضافہ کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی معیشت کی سست روی کے خدشات نے بھی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 40 سینٹس یا 0.57 فیصد کمی کے ساتھ فی بیرل 69.27 ڈالر ہو گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 37 سینٹس یا 0.55 فیصد کمی کے بعد 66.96 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ جمعہ کو دونوں قیمتیں فی بیرل تقریباً 2 ڈالر کم ہو چکی تھیں۔
اوپیک اور اس کے اتحادی ممالک — جو مجموعی طور پر اوپیک پلس کہلاتے ہیں — نے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں ستمبر کے لیے یومیہ 5 لاکھ 47 ہزار بیرل تیل کی پیداوار بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ شیئر واپس حاصل کرنے اور گرتے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
یہ اضافہ اوپیک پلس کی بڑی پیداوار میں کمی کو مکمل طور پر واپس لینے کا اشارہ ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کے لیے علیحدہ پیداوار میں اضافے کی اجازت بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ 25 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے، جو دنیا کی مجموعی طلب کا تقریباً 2.4 فیصد ہے۔
تاہم، گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک پلس کے آٹھ ممالک کی طرف سے حقیقی اضافہ 17 لاکھ بیرل یومیہ متوقع ہے، کیونکہ کئی رکن ممالک نے پہلے زائد پیداوار کی تھی اور اب کمی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، ایران اور روس پر ممکنہ امریکی پابندیوں سے رسد متاثر ہونے کا خدشہ بھی منڈی میں موجود ہے۔ صدر ٹرمپ نے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ بھارت کے دو جہاز دیگر مقامات کی جانب موڑ دیے گئے ہیں، لیکن بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری جاری رکھیں گے۔
امریکی معیشت کی سست رفتاری، نئی تجارتی پابندیاں، اور کمزور روزگار کے اعدادوشمار نے بھی تیل کی عالمی طلب پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔


Comments
Comments are closed.