بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں موجود ان کی ٹیمیں محصور اور جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے میں شدید غذائی قلت کی بڑھتی سطح کا مشاہدہ کررہی ہیں۔
طبی فلاحی تنظیم نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اس کی دو طبی مراکز پر شدید غذائی قلت کی سطح اپنی بلند ترین حد کو پہنچ چکی ہے، جو اب تک کی بدترین صورتِ حال ہے۔
دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غزہ بچوں اور بھوکے لوگوں کا قبرستان بن چکا ہے۔
انروا چیف نے کہا کہ فلسطینیوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں، ایک طرف موت ہے تو دوسری جانب بھوک، ہمارے اصول اور اقدار دفن ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بے عملی مزید انتشار لائے گی، مئی سے اب تک تقریباً 800 فلسطینی امداد کی تلاش میں مارے جاچکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران غیر معمولی سطح پر پہنچ چکا، صورتحال مزید بدتر ہورہی ہے، غزہ میں ہر تین میں سے ایک شخص بغیر کچھ کھائے دن گزارتا ہے۔
ادھر اسرائیل کے غزہ پر تازہ حملوں میں مزید 45 فلسطینی شہید، مرنے والوں میں امداد کے منتظر 11 فلسطینی بھی شامل ہیں۔


Comments
Comments are closed.