BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Increased By (1.28%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 59.86 Increased By ▲ 0.84 (1.42%)
BIPL 27.22 Increased By ▲ 0.05 (0.18%)
BOP 35.29 Decreased By ▼ -1.17 (-3.21%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.15 (-0.82%)
DGKC 216.80 Decreased By ▼ -1.23 (-0.56%)
FABL 99.97 Decreased By ▼ -0.43 (-0.43%)
FCCL 57.85 Increased By ▲ 0.49 (0.85%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.42 Decreased By ▼ -0.20 (-0.81%)
HBL 325.02 Increased By ▲ 0.40 (0.12%)
HUBC 214.20 Decreased By ▼ -11.44 (-5.07%)
HUMNL 10.80 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.49 Increased By ▲ 0.17 (2.32%)
LOTCHEM 27.90 Increased By ▲ 0.76 (2.8%)
MLCF 102.80 Increased By ▲ 0.73 (0.72%)
OGDC 324.00 Increased By ▲ 4.81 (1.51%)
PAEL 43.99 Increased By ▲ 0.11 (0.25%)
PIBTL 16.71 Decreased By ▼ -0.13 (-0.77%)
PIOC 276.25 Increased By ▲ 1.41 (0.51%)
PPL 229.69 Increased By ▲ 8.14 (3.67%)
PRL 70.13 Increased By ▲ 6.38 (10.01%)
SNGP 103.97 Increased By ▲ 0.18 (0.17%)
SSGC 27.25 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 15.60 Increased By ▲ 0.62 (4.14%)
TRG 61.50 Decreased By ▼ -1.79 (-2.83%)
UNITY 12.10 Increased By ▲ 0.59 (5.13%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)

خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو اضافہ ریکارڈ کیا گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے متعلق جلد اعلان کرنے کا عندیہ دیا جس سے اس بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک پر مزید پابندیوں کا امکان بڑھ گیا، تاہم تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق خدشات اور اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار میں اضافے نے اس بڑھوتری کو محدود رکھا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 19 سینٹس یا 0.28 فیصد اضافے سے 68.83 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 24 سینٹس یا 0.36 فیصد بڑھ کر فی بیرل 66.81 ڈالر ہو گئی۔

اب تک رواں ہفتے برینٹ میں 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 0.2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

دونوں کنٹریکٹس میں جمعرات کو 2 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو صدر ٹرمپ کی بدلتی ہوئی ٹیرف پالیسی کے عالمی معاشی نمو اور تیل کی طلب پر ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش لاحق ہوگئی ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو ایک کلائنٹ نوٹ میں لکھا کہ آج صبح قیمتوں میں جزوی بحالی دیکھی گئی جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پیر کو روس سے متعلق ایک اہم اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس اعلان کے باعث مارکیٹ میں روس پر ممکنہ مزید پابندیوں کے خدشات نے بے چینی پیدا کردی ہے۔

یوکرین کے ساتھ امن قائم کرنے میں پیشرفت نہ ہونے اور یوکرینی شہروں پر روس کی شدید بمباری کے باعث صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر برہمی کا اظہار کیا۔

بی ایم آئی کے تجزیہ کاروں نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں کہا کہ سخت مارکیٹ بنیادوں اور موسمی طلب میں بہتری نے بھی تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے جب کہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حوثیوں کے تازہ حملوں نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔

طلب میں بہتری کی علامت کے طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب اگست میں چین کو تقریباً 5 کروڑ 10 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرے گا، جو گزشتہ دو سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑی کھیپ ہوگی۔

رواں ہفتے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک وجہ ہفتہ کو تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں — جنہیں اوپیک پلس کے نام سے جانا جاتا ہے — کے درمیان اگست میں یومیہ 5 لاکھ 48 ہزار بیرل پیداوار بڑھانے کا معاہدہ ہے۔

آئی این جی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ستمبر میں پیداوار میں ایک اور اضافہ ممکن ہے جس کے بعد عارضی طور پر اضافہ روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ چوتھی سہ ماہی میں عالمی منڈی کو بڑے پیمانے پر فاضل رسد کی جانب لے جا سکتے ہیں جس سے قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔

اوپیک نے اپنی 2025 کی ورلڈ آئل آؤٹ لک رپورٹ میں جمعرات کو کہا کہ چین میں سست ہوتی طلب کے باعث تنظیم نے 2026 سے 2029 تک کے لیے عالمی تیل کی طلب کے تخمینے کم کردیے ہیں۔

اوپیک کے مطابق 2026 میں عالمی تیل کی یومیہ طلب اوسطاً 106.3 ملین بیرل رہنے کا امکان ہے جو کہ گزشتہ سال کے تخمینے 108 ملین بیرل یومیہ سے کم ہے۔

Comments

Comments are closed.