امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرف کے اعلانات کے بعد جمعرات کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے ان پالیسیوں کو عالمی اقتصادی ترقی اور توانائی کی طلب کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 22 سینٹ یا 0.31 فیصد کم ہو کر فی بیرل 69.97 ڈالر پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی قیمت 27 سینٹ یا 0.39 فیصد کی کمی سے 68.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔
بدھ کو صدر ٹرمپ نے لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت برازیل کو امریکہ کو برآمدات پر 50 فیصد تعزیری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، جو کہ برازیلی صدر لولا ڈی سلوا کے ساتھ عوامی تنازعے کے بعد سامنے آئی۔ اس سے قبل، ٹرمپ نے تانبے، سیمی کنڈکٹرز اور دواسازی پر بھی ٹیرف لگانے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔
اس کے علاوہ ان کی انتظامیہ نے فلپائن، عراق اور دیگر ممالک کو بھی ٹیرف کے انتباہی خطوط بھیجے ہیں، جو کہ رواں ہفتے جنوبی کوریا اور جاپان جیسے بڑے امریکی تجارتی شراکت داروں کو بھیجے گئے درجنوں خطوط میں شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ٹیرف پالیسیوں سے نہ صرف عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے 17 سے 18 جون کو ہونے والے اجلاس کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، صرف چند عہدیداروں نے مہنگائی کے خدشات کے باوجود رواں ماہ شرح سود میں کمی کی حمایت کی ہے۔
زیادہ شرح سود قرضوں کو مہنگا بنا دیتی ہے جس سے صارفین اور صنعتوں کی توانائی کی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے۔
اگرچہ منڈی پر دباؤ برقرار ہے، لیکن کچھ عوامل قیمتوں کو سہارا بھی دے رہے ہیں۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، پیٹرول کی طلب 6 فیصد بڑھ کر 92 لاکھ بیرل یومیہ ہو گئی۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن کی ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی کے پہلے آٹھ دنوں میں دنیا بھر میں روزانہ اوسطاً 107,600 پروازیں ہو رہی ہیں، جو کہ اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ چین میں ہوائی پروازیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں اور بندرگاہوں و فریٹ کی سرگرمیوں میں بھی پچھلے سال کے مقابلے میں ”مسلسل وسعت“ دیکھی جا رہی ہے۔
جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک عالمی تیل کی طلب میں یومیہ 9.7 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ ان کے 1 ملین بیرل یومیہ کے تخمینے کے مطابق ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ نہ صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے بلکہ اس پر عالمی تجارتی سرگرمیوں، طلب و رسد اور مالیاتی پالیسیاں بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹیرف پالیسیوں میں مزید شدت آتی ہے تو یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔


Comments
Comments are closed.