تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعے کو معمولی اضافہ ہوا تاہم ایران اسرائیل کشیدگی سے جنم لینے والے خدشات کے خاتمے کے باعث یہ دو سال کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی راہ پر گامزن ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 53 سینٹ بڑھ کر 68.26 ڈالر اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 59 سینٹ اضافے کے ساتھ 65.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
13 جون کو ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کے بعد شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران برینٹ کی قیمت عارضی طور پر 80 ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، لیکن امریکی صدر کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ 67 ڈالر تک گر گئی۔
یہ صورت حال دونوں کنٹریکٹس کو تقریباً 12 فیصد ہفتہ وار کمی کی جانب لے جا رہی ہے۔
ریسٹڈ اینالسٹ یانیو شاہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ نے جغرافیائی سیاسی خطرات کو تقریباً بالکل نظر انداز کر کے بنیادی عوامل کی طرف لوٹ آئی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ 6 جولائی کو اوپیک پلس کے اجلاس پر بھی نظریں جمی ہیں، جہاں یومیہ 4 لاکھ 11 ہزار بیرل پیداوار میں اضافے کا امکان ہے اور موسم گرما کی طلب کے اشارے بھی اہم ہیں۔
پرائس فیوچرز گروپ کے سینئر تجزیہ کار فل فلن کے مطابق مستقبل قریب میں بڑھتی ہوئی طلب کی توقع نے جمعے کو تیل کو سہارا دیا ہے۔ ہمیں طلب کا پریمیئم مل رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کے امکانات اور امریکہ، یورپ و چین کے تجارتی معاہدے مارکیٹ کے لیے مثبت اشارے ہیں۔
پی وی ایم آئل ایسوسی ایٹس کے تجزیہ کار تھامس ورگا نے کہا ہے کہ مختلف تیل ذخیرہ رپورٹس میں درمیانے درجے کے ڈسٹلیٹس کی نمایاں کمی نے بھی قیمتوں کو سہارا دیا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے ہفتے خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی جبکہ ریفائننگ کی سرگرمیاں اور طلب میں اضافہ دیکھا گیا۔
اسی دوران جمعرات کو سامنے آنے والے ڈیٹا سے پتہ چلا کہ ایمسٹرڈیم روٹرڈیم انٹورپ (آے آر اے) ریفائننگ اور ذخیرہ کاری مرکز میں آزادانہ طور پر رکھے گئے گیسوائل کے ذخائر ایک سال سے زائد عرصے میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئے، جب کہ سنگاپور میں درمیانے درجے کے ڈسٹلیٹس کے ذخائر بھی کم ہوئے کیونکہ ہفتہ وار خالص برآمدات میں اضافہ ہوا۔
مزید برآں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران تنازع سے قبل جون میں چین کی ایرانی تیل کی درآمدات میں زبردست اضافہ ہوا اور آزاد ریفائنریز کی طلب میں بہتری آئی۔
چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ اور ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
شیپ ٹریکر ورٹیکسا کے مطابق چین نے یکم سے 20 جون کے درمیان روزانہ 1.8 ملین بیرل سے زائد ایرانی خام تیل خریدا، جو کمپنی کے ڈیٹا کی بنیاد پر ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔


Comments
Comments are closed.