BR100 Increased By (0.49%)
BR30 Increased By (0.64%)
KSE100 Increased By (0.27%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.25 (0.43%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.38 Increased By ▲ 2.41 (1.25%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.29 Increased By ▲ 0.46 (0.87%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.01 Increased By ▲ 0.63 (0.29%)
HUMNL 10.88 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.71 Decreased By ▼ -0.18 (-0.65%)
MLCF 86.94 Increased By ▲ 0.43 (0.5%)
OGDC 322.00 Increased By ▲ 2.04 (0.64%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.23 (1.38%)
PIOC 269.79 Increased By ▲ 3.73 (1.4%)
PPL 228.99 Increased By ▲ 0.81 (0.35%)
PRL 34.89 Increased By ▲ 0.21 (0.61%)
SNGP 99.01 Decreased By ▼ -0.17 (-0.17%)
SSGC 27.05 Increased By ▲ 0.45 (1.69%)
TELE 8.61 Increased By ▲ 0.33 (3.99%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.63 Decreased By ▼ -0.08 (-0.11%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

وزارتِ خزانہ نے بدھ کے روز حکومتی بانڈز کی ایک بڑی نیلامی کے ذریعے 1.2 کھرب روپے سے زائد رقم کامیابی سے اکٹھی کر لی۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق، اس نیلامی میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 15 سالہ زیرو کوپن بانڈ متعارف کرایا گیا، جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور اس کے ذریعے 47 ارب روپے سے زائد کی رقم حاصل کی گئی۔

یہ نیا بانڈ ہر سال سود ادا نہیں کرتا، بلکہ سرمایہ کاروں کو 15 سال بعد مکمل رقم ایک ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ اس اقدام سے حکومت کو قلیل مدتی قرضوں کی ادائیگی کے دباؤ میں کمی لانے اور مالیاتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

بانڈز میں سرمایہ کاری کی بھرپور طلب ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کر رہے ہیں۔ یہ قدم حکومت کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد قرضوں کے خطرات کو کم کرنا، ادائیگی کی مدت کو بڑھانا، اور اسلامی و طویل مدتی مالیاتی مصنوعات کو فروغ دینا ہے۔

دیگر حکومتی بانڈز پر منافع کی شرح میں بھی کمی آئی ہے، جو مالیاتی منڈیوں میں مہنگائی میں کمی اور مستقبل میں شرحِ سود کے کم ہونے کی امید کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کا قرض اب زیادہ مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ملکی قرضوں کی اوسط ادائیگی مدت 2.7 سال سے بڑھ کر اب 3.75 سال ہو گئی ہے، جس سے فوری ادائیگی کے دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مزید برآں، اب صرف بینک ہی نہیں بلکہ پنشن فنڈز اور انشورنس کمپنیاں بھی سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے مالیاتی خطرات وسیع پیمانے پر تقسیم ہوتے ہیں اور مقامی سرمایہ کاروں کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ پاکستان کے مالیاتی نظام کو مضبوط اور لچکدار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہم قرض لینے کے نئے اور مؤثر طریقے متعارف کروا رہے ہیں جو خطرات کو کم کرتے ہیں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ آپشنز فراہم کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد ذمہ دارانہ انداز میں عوامی قرضوں کا انتظام کرنا، اسلامی مالیات کو فروغ دینا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی کو سہارا دینا ہے۔

وزارتِ خزانہ عام شہریوں کے لیے بھی حکومتی بانڈز، خاص طور پر اسلامی بانڈز میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ بچت کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے اور مالی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزارت نے مزید کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، آج کی نیلامی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی معیشت سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے اور درست سمت میں گامزن ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.