✕
دنیا

ری پبلکنز کی 2028ء کی صدارتی دوڑ پر نظریں، مارکو روبیو کی اعلیٰ حکام کو مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کی ہدایت

  • ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سیاسی سرگرمیوں کے لیے تمام بیرونی دوروں کی روبیو کے دفتر سے منظوری لازمی قرار دے دی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے محکمہ خارجہ پر اپنا انتظامی کنٹرول مزید سخت کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کو ہدایت کی ہے کہ عملہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے کام کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ اس معاملے سے آگاہ چار افراد نے بتایا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کو منگل کے روز وسط مدتی انتخابات میں شکست سے قبل گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اجلاس میں روبیو نے یہ پیغام دیا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ری پبلکن پارٹی کی سرکردہ شخصیات تیزی سے غیر مقبول ہوتی ٹرمپ انتظامیہ سے خود کو الگ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ اجلاس یونان میں امریکی سفیر کمبرلی گلفائل کے اکتوبر کے وسط میں مستعفی ہونے کے بعد ہوا۔ ان کا استعفیٰ اس وقت سامنے آیا تھا جب میڈیا رپورٹس میں یہ خدشات ظاہر کیے گئے کہ انہوں نے رقم، تحائف اور مراعات کے عوض ٹرمپ انتظامیہ کے حکام تک رسائی فراہم کی تھی۔

کمبرلی گلفائل نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ اپنی ساکھ کا دفاع کریں گی۔

اجلاس میں محکمہ خارجہ کے تقریباً دو درجن معاون وزرائے خارجہ سمیت متعدد اعلیٰ حکام شریک تھے۔ اجلاس میں روبیو نے کہا کہ غیر اخلاقی طرزِ عمل پر کسی بھی اہلکار کو برطرف کردیا جائے گا، خواہ اس کے کتنے ہی بااثر روابط کیوں نہ ہوں۔ اجلاس میں شریک ایک شخص نے یہ بات بتائی۔

ذرائع کے مطابق روبیو نے مزید کہا کہ بہت سے حکام باہمی رابطہ کاری کے بغیر فیصلے کر رہے ہیں یا اپنی پالیسی ترجیحات آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ اہم فیصلوں کے لیے ان کی یا نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو کی منظوری ضروری ہے۔ ان افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ اجلاس کی تفصیلات اس سے قبل رپورٹ نہیں ہوئی تھیں۔

محکمہ خارجہ نے اجلاس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

تین ذرائع کے مطابق اجلاس کے کچھ ہی عرصے بعد محکمہ خارجہ کے پالیسی چیف جیریمی لیون کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ خدشات تھے کہ وہ مناسب رابطہ کاری کے بغیر اپنے دائرۂ کار سے باہر کے معاملات میں مداخلت کر رہے تھے۔ تاہم ان خدشات کی تفصیلات واضح نہیں ہوسکیں۔

رائٹرز سے بات کرنے والے کسی بھی ذریعے نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ لیون کی علیحدگی کا تعلق اخلاقی بدعنوانی کے کسی واقعے سے تھا۔ لیون ایلون مسک کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی کے حصے کے طور پر حکومت میں شامل ہوئے تھے اور انہوں نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو ختم کرنے کے عمل میں مدد دی تھی، جو امریکی بیرونی امداد کی نگرانی کرتا تھا۔

ایک ذریعے کے مطابق روبیو اور محکمہ خارجہ کی دیگر اعلیٰ قیادت لیون کے ’’اپنی مرضی سے کام کرنے‘‘ اور ’’وزیر خارجہ کی بعض ہدایات کے برخلاف اقدامات‘‘ پر ناخوش تھے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی مخصوص مثال پیش نہیں کی گئی۔

دو ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل اعلیٰ عہدے پر تعینات ہونے والے لیون نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ وہ نجی شعبے میں واپسی کے لیے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

تبصرے کے لیے رابطہ کرنے پر محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا، ’’باہمی اتفاق سے یہ طے پایا کہ لیون کے لیے عہدے سے الگ ہونے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

لیون نے رائٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ ان کی رخصتی کا منصوبہ اعلان سے کئی ہفتے پہلے طے پاچکا تھا اور انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں برطرف کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ تاثر غلط ہے کہ مجھے برطرف کیا گیا۔ وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کے ساتھ کئی ہفتے پہلے طے شدہ منصوبے کے مطابق، اہم منصوبے مکمل کرنے کے لیے توقع سے زیادہ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد، میں نے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تاکہ نجی شعبے میں ذمہ داریاں سنبھال سکوں اور اپنی شادی کی منصوبہ بندی کرسکوں۔‘‘

ان کا کہنا تھا، ’’اس کا محکمہ چلانے کے کسی اجلاس یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘‘

روبیو کی ناراضی کی ایک وجہ سیاسی عملے کے غیر ضروری بیرون ملک دورے بھی تھے۔ ایک اور ذریعے کے مطابق اسی کے نتیجے میں یہ شرط عائد کردی گئی ہے کہ سیاسی عملے کے تمام بیرونی دوروں کے لیے روبیو کے دفتر سے منظوری لینا ہوگی۔

ری پبلکنز کی نظریں وسط مدتی انتخابات کی شکست سے آگے

منگل کے روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو کانگریس کا کنٹرول ملنے کے فوراً بعد 2028ء کے صدارتی انتخابات کی مہم نے رفتار پکڑنا شروع کردی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور ری پبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتخابی نتائج کے بعد اپنے تجزیے پیش کیے، جنہیں متعدد سیاسی حکمت عملی سازوں نے انتخابی مہم کے آغاز پر سیاسی لائحہ عمل کے اظہار کے طور پر دیکھا۔

روبیو نے خود صدارتی انتخاب لڑنے پر غور کرنے سے متعلق رپورٹس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم انہوں نے عوامی سطح پر اس امکان کو مسترد بھی نہیں کیا۔ اگر وہ صدارتی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں تو محکمہ خارجہ کے انتظامی معاملات سے نمٹنے کا ان کا طریقہ انتخابی مہم کے دوران زیرِ بحث آسکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو مسلسل ایسے الزامات کا سامنا رہا ہے کہ اس کے ارکان ذاتی مفادات کے لیے سرکاری عہدوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے کہا ہے کہ جنوری میں کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہ ٹرمپ کے معاونین اور غیر ملکی حکام کے درمیان معاملات کی باریک بینی سے جانچ کریں گے اور باضابطہ تحقیقات شروع کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ذاتی مفادات کے حصول کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

اکتوبر میں کمبرلی گلفائل کے انتظامیہ سے علیحدہ ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد روبیو نے محکمہ خارجہ کے تمام اہلکاروں کے نام ایک یادداشت جاری کی تھی، جس میں سفارت کاروں کو ’’مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے‘‘ کی ہدایت کی گئی تھی۔ متعدد میڈیا اداروں نے اس یادداشت کی اطلاع دی تھی۔

بعد ازاں روبیو نے صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ یہ یادداشت گلفائل کی علیحدگی کے نتیجے میں جاری کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسے کئی ہفتے پہلے جاری کرنا چاہتے تھے، تاہم محکمانہ ضابطہ جاتی کارروائیوں کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر حصوں کی طرح روبیو کے محکمہ خارجہ سے بھی حالیہ عرصے میں متعدد اہلکار علیحدہ ہوئے ہیں۔

اکتوبر میں عالمی شراکت داری کے لیے امریکی خصوصی نمائندے پاؤلو زیمپولی کو اس وقت برطرف کردیا گیا تھا جب پولیٹیکو نے ان اور کرسٹوفر لینڈو کے درمیان ای میلز کی ایک گفتگو رپورٹ کی۔ اس میں لینڈو نے زیمپولی پر ثقافتی سفارت کاری کے اپنے ’’دائرۂ کار‘‘ سے باہر کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان کی ہدایات کے برخلاف اپنے دائرۂ اختیار سے باہر کے معاملات میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔

رائٹرز ان معاملات کی نوعیت کا تعین نہیں کرسکا۔

عہدے سے علیحدگی کے کچھ ہی عرصے بعد زیمپولی نے ایکس پر لکھا تھا کہ قانون کے تحت خصوصی ایلچیوں کی تقرری ایک سال کے لیے ہوتی ہے اور صدر ٹرمپ نے ان کی مدت میں چھ ماہ سے زیادہ توسیع کی تھی۔