✕
مارکٹس

اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا سلسلہ جاری، انڈیکس تقریباً 2 فیصد بڑھ گیا

  • بینچ مارک انڈیکس 3,334.00 پوائنٹس یا 1.94 فیصد اضافے کے ساتھ 175,347.48 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان برقرار رہا، کیونکہ توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ہفتے امریکی کانگریس کے انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ہونے والے نقصان سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات کم ہوسکتے ہیں۔

صبح 9 بج کر 45 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 3,334.00 پوائنٹس یا 1.94 فیصد اضافے کے ساتھ 175,347.48 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص، جن میں ماری، او جی ڈی سی، پی ایس او، ایس ایس جی سی، حبکو، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک شامل ہیں، مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

بدھ کو بھی پی ایس ایکس میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جغرافیائی سیاسی خدشات میں کمی نے وسیع پیمانے پر خریداری کو تحریک دی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,994.62 پوائنٹس یا 2.38 فیصد اضافے کے بعد 172,013.48 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

عالمی منڈیوں میں جمعرات کو ایشیا میں تیل، چِپ ساز کمپنیوں کے حصص اور ڈالر دباؤ کا شکار رہے، جبکہ تقریباً دیگر تمام شعبوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اس کی وجہ امریکی ووٹرز کی جانب سے ڈیموکریٹس کو وسط مدتی انتخابات میں حیران کن کامیابیوں سے ہمکنار کرنا تھا، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت راتوں رات تقریباً 9 فیصد گر کر 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی۔

اس ہفتے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ اگر جمعے کو کاروبار کے اختتام تک یہ کمی برقرار رہتی ہے تو اپریل 2020 کے بعد تیل کی قیمتوں میں یہ سب سے بڑی ہفتہ وار کمی ہوگی۔ اپریل 2020 میں ایک ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کی قیمت مختصر وقت کے لیے منفی سطح پر چلی گئی تھی۔

توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے کمی نے بانڈز میں خریداری کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں ان پر منافع کی شرح کم ہوئی، ڈالر کی قدر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی اور یورو کے مقابلے میں اس کی قیمت 1.1273 ڈالر رہ گئی، جبکہ اسٹاک مارکیٹوں کو بھی سہارا ملا۔

وسیع تر اسٹاک انڈیکسز میں انتخابات کے واضح نتائج کے بعد اضافہ ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا، جبکہ یورپی حصص کی مارکیٹیں دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

شمسی توانائی کی سپلائی چین سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، کیونکہ توقع ہے کہ ڈیموکریٹس قابل تجدید توانائی کے لیے معاونت بڑھائیں گے۔ اس کے برعکس ایشیا میں ڈیٹا سینٹرز چلانے والی کمپنیوں اور ان کے آلات فراہم کرنے والوں کے حصص میں کمی آئی، جس کی وجہ ان شعبوں پر سخت ضابطوں کے نفاذ کے خدشات ہیں۔

جنوبی کوریا کے چِپ ساز اداروں کے حصص کی بڑی تعداد پر مشتمل کوسپی انڈیکس 4 فیصد گر گیا اور صبح کی کاروباری سرگرمیوں کے دوران سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ تائیوان کا بینچ مارک انڈیکس 1.8 فیصد کم ہوا۔ ٹیکنالوجی آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں کمی نے جاپان کے نکیئی انڈیکس کو بھی متاثر کیا، جو 0.5 فیصد نیچے آگیا۔

ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے ڈیموکریٹ امیدواروں نے ٹیکساس اور جارجیا میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ ان امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کے ایک حصے میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کامیابیوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے عوامی رائے میں تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس پیش رفت سے بالآخر مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز یا کمپیوٹر چِپس کی طلب متاثر نہیں ہوگی، البتہ اب وہ ان شعبوں کی سرگرمیوں میں کم از کم عارضی سست روی کی توقع کر رہے ہیں۔

یہ انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔