✕
دنیا

ایران جنگ وسط مدتی انتخابات میں ہماری شکست کی وجہ بنی، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اعتراف

  • منگل کے روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی لہر نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے جے ڈی وینس کے پہلے سے مضبوط ترین امیدوار ہونے کی حیثیت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست یقینی بنا دی، جبکہ 2028 کے صدارتی انتخاب میں ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں شامل ہونے سے قبل وہ اس غیر مقبول جنگ سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جے ڈی وینس نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں کہا، ’’ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے۔ صدر نے خود گزشتہ شب یہی کہا تھا۔‘‘ ان کا بظاہر اشارہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی جانب تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران جنگ شکست کی وجوہات میں ’’ایک وجہ‘‘ تھی، تاہم اس کے باوجود جنگ کو جائز قرار دیا تھا۔

وینس نے مزید کہا، ’’اگر آپ یہ دلیل دینا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ اس قیمت پر لڑنا درست تھا، یعنی اگلے چھ برس کے لیے سینیٹ سے محروم ہو جانا، تو ضرور ایسا کریں۔ دلیل دیں کہ یہ قیمت ادا کرنا مناسب تھا۔ آپ اس سے اتفاق کریں یا اختلاف، کم از کم یہ ایک دیانت دارانہ موقف ہوگا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ ہم کیوں ہارے۔ اور اب آگے بڑھنے کے لائحہ عمل پر کوئی بھی دیانت دارانہ گفتگو اسی حقیقت سے شروع ہونی چاہیے۔‘‘

منگل کے روز ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کی لہر نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے لیے جے ڈی وینس کے پہلے سے مضبوط ترین امیدوار ہونے کی حیثیت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وینس نے ابھی تک باضابطہ طور پر صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

امریکی خارجہ مداخلت پسندی کے طویل عرصے سے ناقد جے ڈی وینس کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ پس پردہ ایران کے خلاف اس جنگ کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھتے تھے، جو ٹرمپ اور اسرائیل نے فروری کے اواخر میں شروع کی تھی۔

وینس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دو سال قبل ٹرمپ اور ان کی حمایت کرنے والے ریپبلکن ووٹرز جنگ اور اس کے امریکی معیشت پر اثرات کے باعث اب مخالف جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دے چکے ہیں۔

وینس نے کہا، ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دینے والے بہت سے افراد نے 2026 میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے ماہرِ انتخابی رجحانات کے جائزوں کے مطابق، جس پر انہیں اعتماد تھا، ایران جنگ اور معیشت وہ اہم عوامل تھے جن کے باعث ووٹروں نے ریپبلکنز کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ ووٹرز میں ’’اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے‘‘ کی خواہش بھی پائی جاتی تھی۔