سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں 8 فیصد اضافے کی تجویز دیدی
- تجویز کے تحت فی یونٹ قیمت 25.32 روپے سے بڑھ کر 27.309 روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) نے کیلنڈر سال 2027 کے لیے بجلی کی اوسط خریداری قیمت (پی پی پی) میں تقریباً 8 فیصد اضافے کی تجویز دے دی ہے، جس کے تحت فی یونٹ قیمت 25.32 روپے سے بڑھ کر 27.309 روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ تخمینہ 2.6 فیصد بجلی کی طلب میں اضافے اور لوڈ مینجمنٹ نہ ہونے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے منگل کو سی پی پی اے-جی کی جانب سے پیش کردہ بجلی کی خریداری قیمت کے تخمینوں پر عوامی سماعت کی۔ یہ تخمینے یکم جنوری 2027 سے صارفین کے بجلی کے نرخوں کی نئی بنیاد مقرر کرنے میں استعمال ہوں گے۔
سی پی پی اے-جی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان اختر کی سربراہی میں ٹیم نے 2027 کے لیے بجلی کی خریداری قیمت کے چھ مختلف منظرنامے پیش کیے۔ ان میں عالمی ایندھن کی قیمتوں، ایندھن کی دستیابی، شرح تبادلہ اور بجلی کی طلب میں ممکنہ تبدیلیوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
بنیادی منظرنامے کے تحت 2027 میں ڈسکوز کو 130,081 گیگا واٹ آور بجلی فروخت ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ بجلی کی مجموعی خریداری لاگت 3.552 کھرب روپے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس حساب سے فی یونٹ اوسط قیمت 27.309 روپے بنتی ہے۔
بہترین منظرنامے میں فی یونٹ قیمت 25.883 روپے رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ دو بدترین منظرناموں میں یہ بالترتیب 28.835 روپے اور 29.255 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ طلب میں تبدیلی کے منظرنامے کے تحت قیمت 27.568 روپے اور آر ایل این جی و مقامی گیس کے مختلف تناسب کی بنیاد پر 26.441 روپے فی یونٹ رہنے کا امکان ہے۔
بنیادی تخمینے میں ایندھن کی لاگت 1.319 کھرب روپے، متغیر آپریشن اور مرمت کے اخراجات 70.575 ارب روپے جبکہ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے واجبات (کیپیسٹی چارجز) 1.914 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ کیپیسٹی چارجز سب سے بڑا جزو ہیں، جو فی یونٹ 14.717 روپے بنتے ہیں۔ ٹرانسمیشن اور مارکیٹ سے متعلق اخراجات 248.3 ارب روپے تخمینہ کیے گئے ہیں۔
نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار نے آر ایل این جی کی فراہمی، روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ، برینٹ خام تیل کی قیمتوں اور بجلی کی طلب کے تخمینوں میں فرق سے متعلق وضاحت طلب کی۔ اتھارٹی نے سی پی پی اے-جی کو شرح سود کے لیے استعمال ہونے والی کائبور شرح 11.70 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کی بھی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران صنعتی نمائندوں نے انکریمنٹل بجلی پیکیج کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے محدود صنعتوں کو فائدہ پہنچا، جبکہ دیگر 90 فیصد سے زائد صارفین پر کراس سبسڈی کے ذریعے اضافی بوجھ پڑا۔ انہوں نے پیکیج فوری ختم کرنے اور ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات یکم جنوری 2027 سے لاگو کرنے کا مطالبہ کیا۔
صنعتی نمائندوں نے مہنگے درآمدی ایندھن کے بجائے تھر کوئلے، جوہری توانائی، ہوا اور مقامی گیس کے استعمال میں اضافے، ٹرانسمیشن رکاوٹیں دور کرنے اور بجلی کے شعبے کے انتظامی اخراجات کم کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ 2027 میں صارفین کے لیے بجلی کا اوسط ٹیرف 2026 کے 33.38 روپے فی یونٹ سے کم رکھا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026