ای ایف ایس کے تحت مشینری اور کیپٹل گڈز کی درآمد کے ضوابط آسان بنانے کا فیصلہ
- اہلیت کے معیار کو یکساں بنانے اور کسی بھی قسم کی چھوٹ نہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے
حکومت نے برآمد کنندگان کے اخراجات کم کرنے، مقامی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور ملکی صنعتی پیداوار بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت مشینری اور کیپٹل گڈز کی درآمد سے متعلق ضوابط آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اہلیت کے معیار کو یکساں بنانے اور کسی بھی قسم کی چھوٹ نہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے ای ایف ایس سے متعلق مشاورتی اجلاس کے دوران اس حکومتی پالیسی کا اعلان کیا اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ اس اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
بلال اظہر کیانی نے برآمدی شعبے کو فروغ دینے اور کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری تجارت، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے اسپیشل سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سینئر حکام، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے)، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں اور ممتاز برآمد کنندگان نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اسکیم کو مؤثر بنانے، اس کے طریقہ کار کو آسان کرنے اور بدلتے ہوئے تجارتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ ای ایف ایس کے کسی بھی زمرے میں شمولیت کے لیے مقررہ اہلیت کے معیار کا اطلاق تمام متعلقہ اداروں پر یکساں طور پر ہوگا اور معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کے حوالے سے کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔
وزیر مملکت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کے لیے سرمایہ جاتی اشیا اور پیداواری مشینری کی درآمد سے متعلق ضوابط کو واضح اور آسان بنایا جائے۔
اجلاس میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا، جن کا مقصد برآمدی اخراجات کم کرنا، مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی اور ملکی صنعتی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ نے برآمد کنندگان کے لیے موجودہ اسکیموں پر نظرثانی کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں برآمد کنندگان کی ضروریات کے مطابق بنایا جائے گا تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جاسکیں۔
اجلاس کے اختتام پر تمام متعلقہ فریقوں اور تجارتی اداروں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ برآمدات میں اضافہ اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو تیز کیا جاسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026