✕
مارکٹس

فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستان سروسز کے 19.7 فیصد حصص خرید لیے

  • یہ خریداری سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 110 کے تحت ظاہر کی گئی۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے بڑے کاروباری گروپوں میں سے ایک فوجی فاؤنڈیشن نے پاکستان سروسز لمیٹڈ (پی ایس ایل) کے 19.70 فیصد حصص تقریباً 6 ارب 55 کروڑ روپے، یعنی 2 کروڑ 37 لاکھ ڈالر میں خرید لیے ہیں۔

پاکستان سروسز لمیٹڈ نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری کردہ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن نے 2 نومبر 2026 کو پاکستان سروسز کے 64 لاکھ 6 ہزار 797 ووٹنگ شیئرز فی حصص 1,022.42 روپے میں خریدے، جس کے بعد کمپنی کے ووٹنگ شیئرز میں اس کی مجموعی حصص داری بڑھ کر 19.70 فیصد ہوگئی۔

یہ خریداری سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 110 کے تحت ظاہر کی گئی۔

پاکستان سروسز نے بتایا کہ اسے فوجی فاؤنڈیشن کی جانب سے 2 نومبر کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں حصص کے حصول سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

کمپنی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کمپنی کو فوجی فاؤنڈیشن کی جانب سے 2 نومبر 2026 کو ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کی دفعہ 110 اور لسٹڈ کمپنیز (نمایاں تعداد میں ووٹنگ شیئرز کے حصول اور ٹیک اوور) ریگولیشنز 2017 کے ضابطہ 4 (2) کے تحت کمپنی کے 19.70 فیصد ووٹنگ شیئرز کے حصول سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

پاکستان سروسز لمیٹڈ (پی ایس ایل) کا قیام 1958 میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر عمل میں آیا تھا۔ کمپنی کا بنیادی کاروبار پرل کانٹی نینٹل (پی سی) ہوٹلز کی ملکیت اور انتظام و انصرام ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے تجارتی نشان اور نام کے استعمال کے لیے فرنچائز بھی فراہم کرتی ہے اور لاہور میں نسبتاً کم بجٹ کا ایک ہوٹل بھی چلاتی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران کمپنی کی حصص داری میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

گزشتہ سال جولائی میں اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے پی ایس ایل کے 27.95 فیصد حصص 6 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد میں خریدے تھے۔ اسی روز داؤد جان محمد نے بھی پی ایس ایل کے 28 فیصد ووٹنگ شیئرز فی حصص 700 روپے میں حاصل کیے تھے۔

اس کے بعد ٹھٹہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پی ایس ایل کے 28 فیصد حصص 6 ارب 45 کروڑ روپے، یعنی فی حصص 710 روپے کے حساب سے خریدنے کا اعلان کیا تھا۔

ستمبر 2026 میں ٹھٹہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا معاملے کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے پی ایس ایل کی مجوزہ تنظیمِ نو کے حوالے سے اصولی اتفاقِ رائے حاصل کر لیا تھا۔