چین کے وزیر خارجہ کا ایرانی اور سعودی حکام سے ملاقاتیں، مشرق وسطیٰ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور
- وانگ یی کا ایران اور سعودی عرب پر مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سیاسی حل اور مذاکرات اختیار کرنے پر زور
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پیر کے روز بیجنگ میں ایرانی اور سعودی قومی سلامتی کے حکام سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شامل تمام فریقوں کو دوبارہ ہتھیار اٹھانے کے بجائے سیاسی حل اور مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔
چین مشرق وسطیٰ میں اپنا سفارتی کردار مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے اعلان کیا ہے کہ اس کا خصوصی نمائندہ رواں ماہ ایران، عمان اور سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق وانگ یی نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی سے ملاقات میں کہا کہ خطے میں تنازعات کے حل کا راستہ مکالمے اور مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔
وانگ یی نے مزید کہا کہ چین ایران کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔
سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان سے ملاقات کے بعد وانگ یی نے کہا کہ خطے کی صورت حال ایک بار پھر جنگ اور امن کے درمیان ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ تمام فریق اپنے اختلافات بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، دشمنی کا خاتمہ کریں گے اور خطے میں توانائی کی فراہمی اور بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق مساعد بن محمد العیبان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک خط بھی چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے کیا۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بیجنگ میں ایرانی اور سعودی حکام کے درمیان بھی کوئی رابطہ ہوا یا نہیں۔
اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ نے عمان کے رہنما سلطان ہیثم بن طارق السعید سے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کو بڑی طاقتوں کی مسابقت کا میدان نہیں بننا چاہیے۔
بعد ازاں جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں عمان کے سلطان نے مشرق وسطیٰ کے لیے چین کی امن تجاویز کی حمایت کا اظہار کیا اور خطے میں دیرپا استحکام کے قیام کے لیے بیجنگ کے مزید مؤثر کردار کی خواہش ظاہر کی۔