✕
پاکستان

ایس آئی ایف سی نے 38 منصوبوں کو حتمی شکل دیدی، 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

  • منصوبوں میں کان کنی، صنعت، ریلوے، سڑکیں، بحری امور، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، صحت، سیاحت اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں شامل
شائع اپ ڈیٹ

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سینیٹ کی کابینہ سیکریٹریٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ کان کنی، صنعت، ریلوے، سڑکیں، بحری امور، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، صحت، سیاحت اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 38 منصوبوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جن سے تقریباً 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایس آئی ایف سی حکام نے سرمایہ کاری کے منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ پانچ ریفائنریوں نے عمل درآمد کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کے تحت تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ایس آئی ایف سی حکام نے چینی کمپنیوں اور قطر و کویت کے سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ ضابطہ جاتی طریقہ کار آسان بنانے، ویزا سہولتوں میں بہتری اور ون ونڈو آپریشنز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ماضی میں سرمایہ کاروں کو این او سیز کے حصول میں مشکلات کا سامنا تھا، تاہم ایس آئی ایف سی کی مداخلت کے بعد اس ضمن میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے طریقہ کار مزید آسان بنانے اور سرمایہ کاروں پر ضابطہ جاتی بوجھ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے بیوروکریسی کی نااہلی کی ذمہ داری قیادت پر عائد کرتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے دی جانے والی عملی مراعات کی تفصیلات طلب کیں۔

سینیٹر عبدالقادر نے پاکستان میں کاروبار کی زیادہ لاگت، خصوصاً توانائی اور مالیاتی اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعدد ضابطہ جاتی تقاضوں، ٹیکس نوٹسز، منافع بیرون ملک منتقل کرنے اور اسمگل شدہ اشیا سے مسابقت کے مسائل بھی اٹھائے۔

انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے ایک مربوط ریلیف نظام تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور موجودہ و ممکنہ سرمایہ کاری کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث تجارت اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں اس مرحلے پر قابل اعتماد اعداد و شمار اور سرمایہ کاری کے حتمی تخمینے فراہم کرنا مشکل ہے۔

دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بجلی گھروں کی کارکردگی، صلاحیت کے استعمال، ٹیرف کے ڈھانچے اور کیپسٹی پیمنٹس پر بریفنگ دی۔ نیپرا چیئرمین بیماری کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ بجلی گھر گرڈ میں طلب کے اتار چڑھاؤ کے باعث 50 فیصد سے کم صلاحیت پر کام کرتے رہے، تاہم کسی بھی پاور پلانٹ کی بجلی کی پیداوار مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔

نیپرا حکام نے نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت لاگت کی وصولی، سرمایہ پر منافع اور نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی (بلوکی) منصوبے کے سہ ماہی ٹیرف انڈیکسیشن کے قانونی طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔

مزید بتایا گیا کہ فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کے ہیٹ ریٹ ٹیسٹ کا ٹھیکہ بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے نیسپاک کو دیا گیا ہے۔ کمیٹی ارکان نے بجلی گھروں کی کارکردگی کے درست اور شفاف جائزے کے لیے ٹیسٹ نتائج کی آزادانہ تصدیق کی اہمیت پر زور دیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026