✕
پاکستان

وزیراعظم نے 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کردی

  • گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے اضافہ، پیداواری لاگت میں اضافے کے پیش نظر گندم کی کاشت بڑھانے کا فیصلہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4,500 روپے فی من (40 کلوگرام) مقرر کردی، جو گزشتہ سال کی 3,500 روپے فی من قیمت سے ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ پیداواری لاگت میں اضافے کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس کا مقصد آئندہ سیزن میں گندم کی پیداوار بڑھانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ قیمت میں اضافے کا مقصد مہنگی زرعی ضروریات، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ گندم کی کاشت کے لیے مؤثر ترغیب دینا ہے۔

وزیراعظم کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ نئی مجوزہ قیمت سے کسانوں کو پیداواری اخراجات پورے کرنے اور مناسب منافع کمانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

بیان کے مطابق گزشتہ چند برس کے دوران مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہا جبکہ پاکستان کو گزشتہ دو سال کے دوران گندم درآمد بھی کرنا پڑی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس فیصلے سے ملکی غذائی تحفظ مضبوط، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے میں استحکام آئے گا۔

حکومت کو توقع ہے کہ اعلان کردہ قیمت سے کاشت کاروں کی گندم کی کاشت میں دلچسپی دوبارہ بڑھے گی، جس کے نتیجے میں آئندہ سیزن میں گندم کی بوائی اور مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق یہ فیصلہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی رہنمائی میں پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

وزیراعظم نے مشاورتی عمل کے دوران تجاویز دینے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون کو بھی سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور غذائی ضروریات پوری کرنے میں ملک کو زیادہ خودکفیل بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔