فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مذاکرات میں ایران کا سخت مؤقف، امریکی مطالبات ماننے سے انکار
- واشنگٹن اس وقت تک تہران کا اعتماد بحال نہیں کرسکتا جب تک وہ ہماری شرائط پوری نہیں کرتا، باقر قالیباف
ایران نے منگل کو پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو آگاہ کیا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایرانی قیادت کے اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم ثالث پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود تہران نے مذاکرات کے معاملے پر سخت رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ثالثی کی کوششوں اور خطے کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ثالث کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم یہ پیشرفت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور چند ہفتوں بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی جس کے باعث اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بھی غیر مؤثر ہوگئی۔
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تک تہران کا اعتماد بحال نہیں کرسکتا جب تک وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی جانب سے گزشتہ ماہ پیش کردہ سات شرائط پوری نہیں کرتا۔
ایران کے مطالبات میں اس کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا اور خطے کے تمام محاذوں پر جنگی کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے اور امریکا کے مطالبات پورے کرنے کے لیے ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔
اسرائیل، امریکا اور دیگر مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ ان الزامات کے حق میں ایران کی جانب سے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے کا حوالہ دیا جاتا ہے جو عام شہری استعمال کے لیے درکار سطح سے کہیں زیادہ جبکہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار تقریباً 90 فیصد افزودگی کی سطح کے قریب ہے۔
ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کے الزام کی تردید کرتا ہے۔