روس پر پابندیوں میں نرمی کا امکان، خام تیل کی قیمتوں میں کمی
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 49 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 109.06 ڈالر فی بیرل پر آگئے
عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی توانائی کی برآمدات سے متعلق بعض پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی کے فیصلے پر غور تھا، تاہم سعودی عرب اور یمن میں حملوں کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات برقرار رہے۔
منگل کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق رات 12 بج کر 10 منٹ پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 49 سینٹ یا 0.45 فیصد کمی کے بعد 109.06 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے نومبر میں ترسیل کے سودے، جن کی میعاد منگل کو ختم ہورہی ہے، 0.33 فیصد کمی سے 103.32 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ دسمبر کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 46 سینٹ یا 0.47 فیصد کمی کے بعد 98.08 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
گزشتہ سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت 110.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جو 20 مئی کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
ٹرمپ نے جمعے کی شب ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے روس سے متعلق بعض امریکی پابندیوں اور ٹیرف میں نرمی کی تھی۔ ان میں روسی اشیا پر محصولات اور روسی تیل و گیس خریدنے پر عائد سزائیں بھی شامل تھیں۔ تاہم، ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق حکام صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت چاہتے ہیں۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب میں توانائی، ہوائی اڈوں اور فوجی اہداف پر متعدد حملوں کا دعویٰ کیا، جن میں ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، شایبہ آئل فیلڈ اور ریاض و ابہا کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔ سعودی حکام نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے ایک حملے میں 58 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ان واقعات نے خطے میں توانائی کی فراہمی کے خدشات بڑھا دیے، جس کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔
ادھر رائٹرز کے ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور تیار شدہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی متوقع ہے۔