✕
دنیا

ایران سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازعے کے حل کے لیے سیاسی عمل کی حمایت کرتا ہے، ایرانی وزیر خارجہ

  • سعودی الزامات کے باوجود ایران کی حوثیوں کے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید، علاقائی تعاون پر زور، مشترکہ سلامتی یا عدم تحفظ کو اجاگر کردیا
شائع اپ ڈیٹ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ’’سیاسی عمل‘‘ کی حمایت کرتا ہے۔

حوثی جنگجو سعودی عرب کے مختلف اہداف، بشمول توانائی کی تنصیبات اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بارہا حملے کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک بڑے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع اور سب کو شامل کرنے والے سیاسی عمل کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہی واحد قابلِ عمل اور پائیدار راستہ ہے۔

عباس عراقچی نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی ایران کی پیشکش کو بھی دہرایا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ریاض نے تہران کی اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا۔

جمعے کے روز ایران نے سعودی عرب کی جانب سے تہران پر حوثیوں کو حملوں میں شدت لانے کی ترغیب دینے کے الزام کے بعد ان حملوں میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی تھی۔

عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں مزید کہا كہ یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا مل کر عدم تحفظ کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران ’’پہلے راستے‘‘ کے حصول کے لیے اپنے تمام برادر ممالک اور پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔

یمن کے حوثی جنگجو اور لبنان کی حزب اللہ، اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایران کے ’’محورِ مزاحمت‘‘ کا حصہ ہیں۔ اس اتحاد میں عراق کے مسلح گروہ بھی شامل ہیں۔