یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے حوثی حملوں کے بعد ریاض سربراہی اجلاس ملتوی کر دیا
- سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث یورپی یونین اور خلیجی ممالک کا اہم سربراہی اجلاس ملتوی، علاقائی سلامتی کے چیلنجز نمایاں ہوگئے
یورپی یونین نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ریاض میں یورپی یونین اور خلیجی ممالک کے درمیان سربراہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، ایسے وقت میں جب سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب حوثیوں کے مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے، جن میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا حملہ بھی شامل ہے۔ یہ حملہ کئی برسوں کے دوران مملکت پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا، جبکہ حوثیوں کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر رہی ہے۔
27 رکنی یورپی یونین کے رکن ممالک کی نمائندگی کرنے والی یورپی کونسل نے کہا ہے کہ ’’یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان دوسرا سربراہی اجلاس، جو ابتدائی طور پر 24 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’نئی تاریخ کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔‘‘
یورپی یونین خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی روابط مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی سی سی میں بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں دونوں خطوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے والا تھا، جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ خلیجی معیشتوں کو متاثر کر رہی ہے اور یورپ کی توانائی فراہمی کے لیے خطرات بڑھا رہی ہے۔ تاہم، سعودی عرب میں سکیورٹی کی صورت حال کے باعث اجلاس ملتوی کرنا پڑا ہے۔
یورپی کونسل نے کہا ہے کہ ’’یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان شراکت داری دونوں خطوں کے لیے بڑی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔ یورپی یونین اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور اکتوبر 2024 میں ہونے والے پہلے سربراہی اجلاس کے بعد سے پیدا ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد 2015 سے طویل عرصے سے جاری یمن کی خانہ جنگی میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی فوجی مدد کر رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایک سنگین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔