✕
مارکٹس

آئی ایم ایف کی ایشیا کی اقتصادی ترقی سست ہونے کی پیش گوئی

  • رپورٹ کے مطابق خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد عمومی طور پر مستحکم ہے
شائع اپ ڈیٹ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو پیش گوئی کی ہے کہ ایشیا کی اقتصادی ترقی کی رفتار اگلے سال سست پڑ جائے گی، جبکہ ادارے نے ایران جنگ کے باعث توانائی کے بحران، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت میں ممکنہ مندی اور عالمی بانڈز کے منافع میں اضافے سے پیدا ہونے والے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے اقتصادی منظرنامے سے متعلق رپورٹ میں عالمی قرض دہندہ ادارے نے کہا کہ امریکی مالیاتی پالیسی کی سمت سے متعلق غیر یقینی صورت حال ایشیائی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے بنکاک میں اپنے سالانہ اجلاسوں کے دوران جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ رواں سال توانائی کے بحران کے بعد شرح تبادلہ اور سرمائے کی نقل و حرکت میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ کئی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں پر قدر میں کمی کے دباؤ کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد عمومی طور پر مستحکم ہے، تاہم جنوبی کوریا کے ٹیکنالوجی حصص سمیت بعض شعبوں سے سرمایہ کاری کے انخلا کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ ایشیا کی معیشت 2026 میں 4.8 فیصد اور 2027 میں 4.4 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔ یہ تخمینے اپریل میں جاری کردہ پیش گوئیوں سے بہتر ہیں، تاہم 2025 میں ریکارڈ کی گئی 5 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں ترقی کی رفتار سست رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تیزی کے باعث ترقی یافتہ ایشیائی معیشتوں کی شرح نمو 2025 کے 2.5 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 3.2 فیصد ہونے کی توقع ہے۔ اس کے برعکس توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث ابھرتی ہوئی ایشیا کی معیشتوں کی شرح نمو گزشتہ سال کے 5.6 فیصد سے کم ہوکر رواں سال 5.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہونے سے اجناس کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں اور تیل کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی طلب میں کمی بھی عالمی اقتصادی ترقی کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے اثرات ایشیا میں زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں کیونکہ خطہ اے آئی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

ادارے کے مطابق، امریکا، برطانیہ، یورو زون اور جاپان میں سرکاری بانڈز کی منڈیوں میں دباؤ ایشیائی منڈیوں تک منتقل ہوسکتا ہے، جس سے شرح منافع اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف نے ایشیائی مرکزی بینکوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں میں استحکام کو ترجیح دیں اور افراطِ زر کا دباؤ مسلسل بڑھنے کی صورت میں بروقت اقدامات کریں۔ اس نے حکومتوں کو مشورہ دیا کہ توانائی پر عمومی سبسڈی اور قیمتوں پر وسیع پابندیوں کے بجائے محدود، ہدفی اور عارضی مالی اقدامات اختیار کیے جائیں۔