حوثیوں کے حملوں کے بعد سعودی اتحاد کی یمن میں تیل تنصیبات پر بمباری
- ریاض میں ایک زور دار دھماکے کے بعد شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کا انتباہ بھیجا گیا
سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے منگل کو یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت مغربی علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سعودی عرب میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ کارروائیاں سعودی سرزمین پر کئی برسوں کے مہلک ترین حملے کے ردعمل میں کی گئیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، سعودی اتحاد نے بتایا کہ اس نے ریاض سمیت مملکت کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کے متعدد میزائلوں کو روک لیا، جبکہ ان کا ملبہ سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران کے رہائشی علاقے میں گرا، جہاں سعودی آرامکو کا مرکزی دفتر واقع ہے۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق، یمن کے صنعا، ذمار اور صعدہ صوبوں میں ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو حوثی جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے تھے اور سعودی عرب، یمن، بحیرہ احمر اور اہم آبی گزرگاہوں کے لیے خطرہ سمجھی جاتی تھیں۔
ریاض میں ایک زور دار دھماکے کے بعد شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے کا انتباہ بھیجا گیا۔ ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد وہاں آپریشن معطل کردیا گیا تھا۔
سعودی کابینہ نے ولی عہد محمد بن سلمان کی زیر صدارت اجلاس میں عزم ظاہر کیا کہ مملکت اپنی سلامتی اور بحیرہ احمر و آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں نہیں پڑنے دے گی۔ دوسری جانب، صنعا میں شہری ممکنہ ایندھن کی قلت کے خدشے کے باعث پیٹرول پمپوں پر جمع ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکا کی ممکنہ شمولیت کا عندیہ دیا، جبکہ حوثی رہنما محمد البخیتی نے خبردار کیا کہ امریکی مداخلت کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ادھر عالمی ادارہ صحت نے یمن میں مشتبہ ہیضے کے کیسز تین ہفتوں میں تین گنا بڑھنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔