✕
پاکستان

خیبر پختونخوا میں جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت نے فوج تعینات کردی

  • حکومت مخالف احتجاج کے دوران امن و امان بحال کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستے اور وسائل تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے اتوار کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ تعیناتی 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت جاری کیے گئے ایمرجنسی کے اعلان کی مدت تک برقرار رہے گی۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل جاری کیے گئے احکامات کی جگہ یہ نیا حکم نافذ ہوگا۔ خیبر پختونخوا کے گورنر، جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد فوجی دستوں اور وسائل کی ضرورت کا تعین کریں گے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارشات پر ایمرجنسی کے اعلان پر دستخط کیے۔ صدر کے دفتر کے مطابق یہ فیصلہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا گیا۔

یہ اقدامات سابق وزیراعظم اور قید پی ٹی آئی بانی عمران خان کے حامیوں کے حکومت مخالف مظاہروں اور ملک کے شمال مغربی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے تشدد کے واقعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں حامی خیبر پختونخوا میں مارچ کررہے ہیں اور معاشی مشکلات کے دوران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جنید اکبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اقدامات کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر کو گرفتار کرلیا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویش ناک، سنگین سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ عوام اپنے حقوق کے خلاف ایسے اقدامات کبھی قبول نہیں کریں گے۔

آئین کی ان دفعات کے تحت جاری کیے گئے اعلان کا تعلق ہنگامی حالات اور صوبائی نظم و نسق سے ہے، جس کے نتیجے میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں وسیع تر اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔