✕
دنیا

روس امریکہ اور عالمی مارکیٹ کو ڈیزل فراہم کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

  • روس فوری 3 لاکھ ٹن سے زائد جبکہ نومبر میں مزید 5 لاکھ اور نومبر کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا
شائع اپ ڈیٹ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش کے تحت فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل امریکا اور عالمی منڈی کو فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب زراعت، گھروں کو گرم رکھنے اور مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے ڈیزل کی قیمتیں 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل ریکارڈ بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ان انتخابات سے کانگریس پر کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ان کی بات چیت انتہائی کامیاب رہی جس میں اتفاق کیا گیا کہ روس فوری طور پر ڈیزل فراہم کرے گا۔

پیوٹن کے نمائندے کریل دمتریئیف نے جمعہ کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈیزل اور توانائی شعبے میں روس اور امریکا کے درمیان تعاون کو سراہا۔

ٹرمپ نے کہا کہ روس نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا جبکہ اس کے فوراً بعد مزید 10 لاکھ ٹن ڈیزل کی فراہمی کی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق اس کے بعد بھی مزید ڈیزل فراہم کیا جائے گا جس کا انحصار روس کی ڈیزل ریفائنریوں کی صورتحال پر ہوگا۔ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے دوران حملوں میں ان ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے۔

یہ غیر معمولی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکا نے فروری 2022 میں شروع ہونے والی یوکرین جنگ کے باعث روس کی توانائی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کو ایک عمومی اجازت نامہ جاری کیا جس کے تحت آئندہ سال 7 اپریل تک روسی ڈیزل درآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔

ڈیزل کی قیمتوں میں رواں سال امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے 70 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ٹرمپ نے ڈیزل کی فراہمی بڑھانے کے لیے حال ہی میں دو اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اتحادی ممالک پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا اور ٹیکس سے مستثنیٰ سرخ رنگ کے ڈیزل تک رسائی بڑھانا شامل ہے جو عموماً زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے۔

ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی میں غیر معمولی بحران پیدا ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں امریکی موٹر سواروں کی تنظیم اے اے اے کے مطابق جمعرات کو امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت 6.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام، خصوصاً ہمارے عظیم کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ٹرک ڈرائیورز کے لیے قیمتوں میں کمی میری سب سے بڑی ترجیح ہے۔