✕
دنیا

ایرانی انٹیلی جنس نے جرمنی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی شروع کردی، رپورٹ

  • ایرانی انٹیلی جنس کی جرمنی میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات، اتحادیوں کی جانب سے فوری سکیورٹی انتباہ
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی انٹیلی جنس ادارے جرمنی میں امریکی فوجی تنصیبات، جن میں رام شٹائن اور اسپانگ ڈاہلم فضائی اڈے بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ’’ویرٹ شافٹس ووخے‘‘ نے جمعرات کو متعدد مغربی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے تین ہفتے قبل امریکا اور جرمنی کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ خدشہ ان فوجی اڈوں کے حوالے سے ہے جو ایران کے خلاف جاری تنازع سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں اور لاجسٹکس میں معاونت کر رہے ہیں۔

جرمن وزارتِ دفاع اور جرمنی میں موجود امریکی افواج نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

جرمن حکام کئی ہفتوں سے ایران کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اس نگرانی کا ویرٹ شافٹس ووخے کی رپورٹ میں بیان کردہ مخصوص معاملے سے براہِ راست تعلق واضح نہیں ہے۔

امریکی یورپی کمان کے ترجمان نے کہا کہ انٹیلی جنس معاملات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں اور مخصوص خطرات یا فوجی تنصیبات کے حفاظتی اقدامات سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔ ترجمان کے مطابق امریکی یورپی کمان چوکس ہے اور یورپی خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے پیر کو بتایا تھا کہ ایران سے منسلک خطرے کے باعث برطانیہ کے رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے سے امریکی بی-1 بمبار طیارے منتقل کیے گئے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ویرٹ شافٹس ووخے نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے جرمنی میں امریکی فوجی تنصیبات، جن میں رام شٹائن اور اسپانگ ڈاہلم فضائی اڈے بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ایران سے متعلق تنازع کے تناظر میں ممکنہ خفیہ حملوں کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں متعدد نامعلوم مغربی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اسرائیل نے تین ہفتے قبل امریکا اور جرمنی کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ خدشات ان فوجی اڈوں کے حوالے سے ہیں جو ایران کے ساتھ تنازع سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں اور لاجسٹکس میں معاونت کر رہے ہیں۔

برلن میں ایرانی اور اسرائیلی سفارت خانوں نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔