ورلڈ بینک کے غربت کے اعداد و شمار علاقائی کیٹیگری میں تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، حکومت
- ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے زمرے میں شامل کرنے کا فیصلہ ایک انتظامی اور شماریاتی تبدیلی تھی، جس نے علاقائی مجموعی اعداد و شمار کی ساخت کو بدل کر رکھ دیا ہے، خرم شہزاد
حکومت نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے ملک کو اپنے نئے متعین کردہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (ایم ای این اے اے پی) خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف کا حامل قرار دینا، جزوی طور پر بینک کی شماریاتی درجہ بندی میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ پاکستان کی جغرافیائی یا معاشی درجہ بندی میں کسی تبدیلی کو۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو ایم ای این اے اے پی رپورٹنگ خطے میں شامل کرنے کا فیصلہ انتظامی اور شماریاتی ازسرنو درجہ بندی ہے، جس سے علاقائی اعداد و شمار کے مجموعی حجم اور ترکیب میں تبدیلی آئی ہے۔
خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس سے پاکستان کی جنوبی ایشیائی ملک کی جغرافیائی شناخت تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی پاکستان کی آمدنی کی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی آتی ہے۔
عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین ایم ای این اے اے پی اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ 2024 میں خطے میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کا حصہ 48 فیصد تھا، جبکہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستان میں غربت کی شرح 6.4 فیصد پوائنٹس بڑھ گئی۔
خرم شہزاد نے کہا کہ دیگر کئی ایم ای این اے معیشتوں کے مقابلے میں بڑی آبادی رکھنے والے ملک پاکستان کو خطے میں شامل کرنے کے بعد اعداد و شمار روایتی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے سے فطری طور پر مختلف نظر آئیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایم ای این اے اے پی کے غریب افراد میں پاکستان کا بڑا حصہ سامنے آنے کو اس بات کے ثبوت کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے کہ غربت اچانک دوسرے ممالک سے منتقل ہو کر پاکستان آ گئی ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ درست تشریح یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی بینک کے ایم ای این اے اے پی رپورٹنگ خطے میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی درجہ بندی کو جغرافیہ، معاشی ترقی یا قومی شناخت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
عالمی بینک نے کہا کہ ایم ای این اے اے پی اب واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح وبا سے پہلے کی سطح سے بلند ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ اس بگاڑ میں پاکستان کا بڑا کردار ہے۔ بینک کے مطابق 2024 میں خطے کی 14.3 فیصد آبادی روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 10.4 فیصد تھی۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح متعدد بحرانوں کے بعد بڑھی، جن میں کووڈ 19 کی وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کا عمل شامل ہیں، جس کے نتیجے میں گھرانوں کی حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوئے۔