ستمبر کے اختتام تک چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی فنانسنگ 23 ارب روپے بڑھ کر 1.137 ٹریلین روپے ہوگئی، وزارت خزانہ
- ستمبر کے اختتام تک ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد اضافے سے 3 لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی، حکومت کا جون 2028 تک فنانسنگ 2 ٹریلین روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک بڑھانے کا ہدف
چھوٹے اور درمیانے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے بقایا فنانسنگ ستمبر 2026 کے اختتام تک 23 ارب روپے بڑھ کر 1.137 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئی، جبکہ حکومت نے ترجیحی شعبوں میں فنانسنگ تک رسائی بڑھانے کے لیے پیش رفت کا جائزہ لیا۔
یہ پیش رفت بدھ کو وزارت خزانہ میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت رسائیِ فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی کے پانچویں اجلاس میں زیر بحث آئی۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس عرصے کے دوران ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد بھی 25 ہزار سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار 862 ہوگئی۔
وزیر خزانہ نے حکام کو ہدایت کی کہ حکومت کے وسط مدتی ہدف کے حصول کی جانب پیش رفت تیز کی جائے، جس کے تحت جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ 2 ٹریلین روپے اور قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 75 ہزار تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے ایک جامع ماحولیاتی نظام پر مبنی حکمت عملی درکار ہوگی، جس میں کمرشل بینک، مائیکروفنانس ادارے اور دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے شامل ہوں۔
کمیٹی نے زرعی فنانسنگ کا بھی جائزہ لیا، جو جون 2026 میں 1.26 ٹریلین روپے سے بڑھ کر ستمبر کے اختتام تک 94.7 ارب روپے اضافے کے بعد 1.35 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئی۔ زرعی فنانسنگ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی 1 لاکھ 96 ہزار 303 اضافے سے تقریباً 34 لاکھ 60 ہزار ہوگئی۔
وزیراعظم کی زرعی قرض اسکیم ’زرخیز آسان زرعی قرض‘ کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو 2.1 ارب روپے مالیت کے 5 ہزار 563 بلا ضمانت قرضے جاری کیے جاچکے ہیں۔
کمیٹی نے زرعی ویلیو چین، بالخصوص لائیو اسٹاک، ماہی گیری اور دیگر ایسے شعبوں میں فنانسنگ بڑھانے کے اقدامات پر بھی غور کیا جہاں اب تک مالی سہولیات کی رسائی محدود ہے۔
ہاؤسنگ فنانسنگ جون میں 323 ارب روپے سے 103 ارب روپے بڑھ کر ستمبر کے اختتام تک 426 ارب روپے ہوگئی، جبکہ قرض لینے والوں کی تعداد 2 لاکھ 31 ہزار 550 تک پہنچ گئی۔
وزیراعظم کے ’اپنا گھر پروگرام‘ کے تحت 13 ہزار 214 قرض لینے والوں کو 76 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ 350 ارب روپے مالیت کے منظور شدہ قرضے اجرا کے منتظر ہیں۔
محمد اورنگزیب نے گھر خریدنے والوں کے ساتھ ساتھ سپلائی سائیڈ، بشمول ڈویلپرز اور بلڈرز، کے لیے بھی فنانسنگ مضبوط بنانے کے اقدامات پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو سستے مکانات کی تعمیر کے لیے قابل عمل مالیاتی مصنوعات تیار کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن (پی اے وی ای) اسکیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مجموعی طور پر 2.54 ارب روپے مالیت کی 17 ہزار 262 درخواستیں منظور کی جاچکی ہیں، جبکہ ستمبر کے اختتام تک 97 کروڑ 50 لاکھ روپے کے 4 ہزار 839 قرضے جاری کیے گئے، جس کے نتیجے میں 2 ہزار 725 برقی گاڑیاں فراہم کی گئیں۔
وزیر خزانہ نے حکام کو ہدایت کی کہ منظور شدہ فنانسنگ کو حقیقی گاڑیوں کی فراہمی میں تبدیل کرنے اور عمل درآمد میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی معاونت سے چلنے والی فنانسنگ اسکیمیں تجارتی اعتبار سے مستحکم اور حقیقی مارکیٹ کی ضروریات پر مرکوز ہونی چاہئیں، جبکہ پائیدار بنیادوں پر نجی شعبے کی شمولیت کے لیے بھی راستے پیدا کیے جائیں۔
محمد اورنگزیب نے وزارتوں، ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں اور صنعت سے وابستہ فریقوں کو ہدایت کی کہ طے شدہ اقدامات پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانسنگ تک رسائی کے ایجنڈے کا مقصد صرف فنڈنگ میں اضافہ نہیں بلکہ ایسا وسیع تر ماحولیاتی نظام تشکیل دینا بھی ہونا چاہیے جو ایس ایم ایز، کسانوں، گھرانوں اور دیگر کم سہولیات والے طبقات تک رسائی یقینی بنا سکے۔