نیوزی لینڈ پولیس نے منگل کو ایک بیان میں بتایا کہ فلائی دبئی (flydubai) کا وہ کو پائلٹ جس نے مبینہ طور پر طیارہ گرانے کی کوشش میں گزشتہ ہفتے اپنے کیپٹن کو چاقو مار دیا تھا،سات سال قبل نیوزی لینڈ میں مقیم تھا جہاں اس نے برطانیہ میں قائم ایک کمپنی کے لیے اپنی فلائٹ ٹریننگ کا ایک حصہ مکمل کیا۔
پولیس نے بتایا کہ مذکورہ شخص نومبر 2018 سے مئی 2019 کے درمیان چھ ماہ کے اسٹوڈنٹ ویزے پر نیوزی لینڈ میں مقیم رہا تھا۔
نیوزی لینڈ کے اسسٹنٹ کمشنر مائیکل جانسن نے رائٹرز کو ای میل کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ امیگریشن ریکارڈ کے مطابق وہ 30 نومبر 2018 کو نیوزی لینڈ پہنچا اور 23 مئی 2019 کو وہاں سے روانہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ معاون پائلٹ نیوزی لینڈ میں ایک برطانیہ میں قائم کمپنی کے لیے اپنی فلائٹ ٹریننگ کا ایک حصہ مکمل کرنے آیا تھا جو اب نیوزی لینڈ میں کام نہیں کررہی۔
پولیس نیوزی لینڈ میں اس کے قیام کے دوران سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لے رہی ہے اور مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کررہی ہے۔
دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے معاون پائلٹ نے طیارے کے کپتان پر ہنگامی صورتِ حال میں استعمال ہونے والی چاقو سے حملہ کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹر جنرل نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے یہ بات بتائی۔
دو ذرائع نے بتایا کہ معاون پائلٹ عمانی شہری ہے اور اس کا نام حمام الحَمّامی ہے۔
اسرائیلی حکام نے معاون پائلٹ کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ عمان سے تعلق رکھتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام اور فلائی دبئی نے بھی معاون پائلٹ کی شناخت عوامی طور پر ظاہر نہیں کی۔
رائٹرز آزادانہ طور پر متحدہ عرب امارات کی حراست میں موجود الحمّامی سے رابطہ کرکے ان کا مؤقف حاصل نہیں کرسکا۔
آسٹریلیا کا ایک کثیر ادارہ جاتی انسدادِ دہشت گردی یونٹ بھی مذکورہ شخص کے آسٹریلیا سے روابط کی تحقیقات کررہا ہے۔