✕
مارکٹس

مشرق وسطیٰ سے مضبوط برآمدات، خام تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کے دسمبر کے سودے 4 سینٹ کم ہوکر 100.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کو معمولی کم ہوگئیں، کیونکہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں استحکام اور جی سیون ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے فیصلے سے رسد کے حوالے سے خدشات میں کمی آئی، تاہم یمن کے حوثیوں کی سعودی اہداف پر حملوں نے خلیجی خطے سے تیل کی فراہمی کو لاحق خطرات کے بارے میں سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔

برینٹ خام تیل کے دسمبر کے سودے 4 سینٹ کم ہوکر 100.28 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 11 سینٹ یا 0.1 فیصد کمی کے بعد 89.33 ڈالر فی بیرل رہے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ گزشتہ روز کی کمی کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً مستحکم ہیں، جبکہ مارکیٹ رسد کے حوالے سے خدشات میں معمولی کمی کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی برآمدات میں اضافے اور جی سیون کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے فیصلے نے فی الحال قیمتوں کو مزید بڑھنے سے روکنے میں مدد دی ہے، جبکہ برینٹ 100 ڈالر کی سطح کے قریب ہے۔

شپنگ کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے میں چار دن مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے تجاوز کرگئیں، جس سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود خطے سے تیل کی ترسیل میں استحکام ظاہر ہوتا ہے۔

جی سیون ممالک نے جمعے کو ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دوسری جانب سعودی عرب اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کے درمیان کشیدگی نے خطے کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔

حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے سعودی عرب میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، آرامکو کی رابغ ریفائنری اور ابہا ایئرپورٹ سمیت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری تصدیق نہیں کی گئی۔

واٹرر کے مطابق واضح سفارتی پیش رفت یا برآمدی نظام میں مزید نمایاں بہتری نہ آنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں کو سہارا دینے والی بنیادی سطح مضبوط رہنے کا امکان ہے۔