توانائی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے پر پوری توجہ ہے، وزیر پٹرولیم
- دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران صارفین کی گیس ضروریات پوری کرنے کیلئے جامع انتظامات کیے جا رہے ہیں، علی پرویز ملک
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے ایل پی جی کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کیلئے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی گئی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں صارفین کو ایندھن کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مغلپورہ میں عوامی اجتماع سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بدلتی ہوئی عالمی توانائی صورتحال کے پیش نظر خام تیل، پٹرول، ڈیزل، گیس اور ایل پی جی کی مناسب دستیابی یقینی بنانے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران صارفین کی گیس ضروریات پوری کرنے کیلئے جامع انتظامات کیے جا رہے ہیں اور وزیراعظم و وفاقی کابینہ کو ملک کی گیس ضروریات، دستیابی اور ممکنہ چیلنجز سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ قیمتوں کا تعین اوگرا کرتا ہے جبکہ سعودی آرامکو کی ماہانہ کنٹریکٹ قیمت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موسم سرما میں طلب میں اضافے اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایل پی جی کی وافر دستیابی کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت کی جانب سے فی لیٹر 100 روپے ریلیف کی اسکیم سے 90 لاکھ سے زائد شہری مستفید ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا فائدہ بلا تاخیر پاکستانی صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں شفاف طریقہ کار کے تحت مقرر کی جا رہی ہیں اور متعلقہ تفصیلات اوگرا کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر موٹر سائیکل سواروں اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین سمیت کم آمدنی والے طبقات کیلئے ریلیف اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ریلیف اسکیم جاری رکھے گی۔ موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ تشویش کا باعث ہے اور ملک کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔
علاقائی صورتحال کے حوالے سے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں اور باب المندب کے قریب بحری راستوں میں رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے انہیں ریاض جا کر سعودی وزیر توانائی سے ملاقات اور مشکل صورتحال میں تعاون پر پاکستان کی جانب سے اظہار تشکر کی ذمہ داری سونپی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عالمی توانائی بحران کے اثرات کم کرنے اور موسم سرما میں پٹرول، ڈیزل، گیس اور ایل پی جی کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کیلئے پیشگی فیصلے کر رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026