ماسکو کی ’نئی فضائی حملہ پالیسی‘ کے جواب میں یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنائے گا
- ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ روس پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کارروائی کر رہا ہے
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ماسکو کی جانب سے فضائی حملوں کی نئی پالیسی کے جواب میں یوکرین روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں مزید تیز کرے گا، تاہم شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
زیلنسکی کے مطابق ماسکو کی نئی پالیسی کا مقصد کیف اور دیگر شہروں کے شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کی انٹیلی جنس نے ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی رہنما ولادیمیر پیوٹن نے موسم سرما سے قبل فوجی حملوں کے لیے ’نئے نظریے‘ (نئی حکمت عملی) کی منظوری دی ہے، جس کے تحت شہری تنصیبات کی کہیں وسیع تر رینج کو نشانہ بنایا جائے گا۔
زیلنسکی نے کہا، ’’ہم نے دستاویزات دیکھی ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ ان کے تحت انہیں انفرااسٹرکچر، رسد، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے کی اجازت ہے تاکہ لوگوں کو دارالحکومت اور مختلف شہروں سے نکلنے پر مجبور کیا جاسکے۔ یہی اس کارروائی کا مقصد ہے۔‘‘
زیلنسکی کے مطابق اس پالیسی میں تبدیلی کے پیچھے پیوٹن کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ ایسے وقت میں خود کو مضبوط ظاہر کیا جائے جب ان کی فوج ایک اہم محاذی علاقے میں پسپائی اختیار کر رہی ہے اور اسے پہلے سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
کریملن نے ہفتے کو اس حوالے سے تبصرے کے لیے دستیابی ظاہر نہیں کی۔ تاہم روسی وزارت خارجہ نے غیرملکی شہریوں پر زور دیتے ہوئے کہ وہ کیف چھوڑ دیں، ایک بیان میں کہا کہ ماسکو منظم انداز میں اہداف کو نشانہ بناتا رہے گا، جسے اس نے حالیہ مہینوں میں روس پر یوکرینی حملوں کے جواب میں کی جانے والی کارروائیاں قرار دیا۔
دونوں فریق شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔
ڈونباس میں جوابی کارروائی
زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرین کی جاری جوابی کارروائی، جس کا کوڈ نام ’ویوالڈی‘ ہے، کے نتیجے میں مشرقی ڈونباس کے تقریباً 140 مربع کلومیٹر (54 مربع میل) علاقے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے۔ روس کہہ چکا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی شرط کے طور پر پورے ڈونباس پر اس کا کنٹرول ضروری ہے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چار سال سے جاری اس تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں کی ہیں، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی سب سے خونریز جنگ ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ ماہ یوکرین پر زور دیا تھا کہ وہ روسی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی آرہی ہے۔
تاہم زیلنسکی نے کہا کہ انہیں روس کی جانب سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پیوٹن امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق جنگ بندی پر بات کرنا چاہتے ہیں۔
زیلنسکی یہ بات صدارتی دفاتر کے سنہری ہالز کے باہر فضائی حملے کے سائرن بجنے کے دوران کہہ رہے تھے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے دارالحکومت کو روسی ڈرونز اور میزائلوں کے مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے، جن میں توانائی اور ٹیلی مواصلات کی تنصیبات، سڑکوں اور ریل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ روس نے پہلی بار دریائے دنیپرو پر واقع ان پلوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جو کیف کے مشرقی اور مغربی حصوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ماسکو کی حکمت عملی میں تبدیلی کا جواب دے گا، تاہم شہری بنیادی ڈھانچے کو بلاامتیاز نشانہ بنا کر روس جیسا ردعمل نہیں دے گا۔
انہوں نے انگریزی میں کہا، ’’ہمیں ہر ممکن طریقے سے جواب دینا ہوگا۔ وہ ہماری توانائی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو ہمیں ان کی توانائی کو نشانہ بنانا ہوگا۔ سب سے پہلے تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو، جو انہیں اس جنگ کے لیے پیسہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن یقیناً ہم ان کی طرح کسی بھی شہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔‘‘
یورپ کی حمایت
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیوٹن کو دسمبر میں میامی میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے اور روسی نمائندوں کے ساتھ کاروباری معاہدوں پر بات چیت کے بعد زیلنسکی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ امن کی بحالی یقینی بنائے بغیر روس کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لائے جائیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ وہ جی 20 اجلاس کے موقع پر امن مذاکرات کے لیے پیوٹن سے ملاقات پر خوش ہوں گے، تاہم انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ اس ’خوش فہمی‘ کا شکار نہ ہو کہ روس ڈونباس کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جنگ ختم کردے گا۔
اپنی روایتی سیاہ ٹی شرٹ اور فوجی طرز کی جیکٹ میں ملبوس زیلنسکی نے کہا، ’’صرف تعلقات معمول پر لانا مناسب نہیں۔‘‘ ان کے مطابق مغرب کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کی بحالی امن کے بدلے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’کیونکہ امن کسی بھی قسم کی معیشت سے زیادہ اہم ہے۔‘‘
امریکا نے آئندہ ہفتوں میں متحدہ عرب امارات میں سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم زیلنسکی نے کہا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کی حتمی تاریخ اور مقام ابھی طے نہیں ہوئے۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے موسم سرما میں بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف متوقع بڑے حملوں سے قبل سیکڑوں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرلیے ہیں۔ گزشتہ موسم سرما، جو جنگ کا بدترین دور تھا، روسی حملوں کے نتیجے میں ملک کے بڑے حصے کئی کئی دن تک بجلی اور حرارت سے محروم رہے تھے۔
موسم گرما سے ماسکو نے یوکرین پر روزانہ درجنوں تیز رفتار اور نسبتاً کم قیمت جیٹ انجن والے شاہد ڈرونز بھی داغنا شروع کردیے ہیں۔ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو ان ڈرونز کو روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے انٹرسیپٹر ڈرونز کی پچھلی نسل ان کی رفتار پکڑنے کے لیے بہت سست تھی۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو ان جیٹ انجن والے ڈرونز میں سے تقریباً 60 فیصد کو مار گرانے کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں، ایف-16 اور مگ، پر بہت زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے، تاہم ان طیاروں کے لیے 20 ملی میٹر گولہ بارود کا ذخیرہ کم ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیف فوری طور پر دیگر حل تلاش کر رہا ہے، جن میں اپنی جیمنگ صلاحیت میں اضافہ بھی شامل ہے۔ اکتوبر کے دوسرے نصف میں اسے چھوٹے اور کم قیمت فضائی دفاعی میزائلوں کی پہلی کھیپ موصول ہوگی جو نئے شاہد ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
زیلنسکی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یوکرین جیٹ انجن والے شاہد ڈرونز کو مار گرانے کی صلاحیت رکھنے والے انٹرسیپٹر ڈرونز کے پانچ ماڈل تیار کر رہا ہے۔ اپنے دفاعی سربراہان سے ملاقات کے فوراً بعد انہوں نے بتایا کہ ان میں سے دو ماڈلز کے تجربات میں تقریباً 30 فیصد کی معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں اس کا پیمانہ بڑھانا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ ان تمام چیزوں اور عناصر کے ساتھ ہم کوئی راستہ نکال لیں گے۔‘‘
بیلسٹک میزائل کا خطرہ
یوکرین نے رواں ہفتے پہلی بار اپنے ملک میں تیار کردہ بیلسٹک میزائل ’ایف پی-7‘ کو جنگی کارروائی میں استعمال کرنے کا اعلان کیا، جس کی مار تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے میزائل تیار کرنے والی کمپنی ’فائر پوائنٹ‘ سے رابطہ کرکے حکام پر زور دیا ہے کہ زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے ماڈل ’ایف پی-9‘ کی تیاری جلد مکمل کی جائے۔ کمپنی کے مطابق یہ میزائل ماسکو کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
زیلنسکی نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’میں نے ان سے پوچھا، میرا ایف پی-9 کہاں ہے؟ ہمیں ایف پی-9 چاہیے۔ اور مجھے یقین ہے کہ ایف پی-9 اس موسم خزاں میں تیار ہوجائے گا۔‘‘
زیلنسکی نے کہا کہ یورپ میں روسی ڈرونز کی حالیہ دراندازی اور ہائبرڈ حملوں کی ایک لہر کا مقصد یورپی عوام کو خوفزدہ کرنا اور یوکرین کے لیے حمایت کو تقسیم کرنا ہے۔
ان کے مطابق بعض یورپی رہنما اب اس بات کو سمجھنا شروع ہوگئے ہیں اور اپنا موقف سخت کررہے ہیں۔
روس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الزامات بے بنیاد ہیں اور روس مخالف اشتعال انگیزی کا نتیجہ ہیں۔
زیلنسکی نے بتایا کہ رواں ہفتے برسلز میں یورپی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد یوکرین نے ان ڈرونز کے آرڈرز کے لیے فنڈنگ حاصل کرلی ہے جن کی اسے 2027 کے آغاز میں جنگ جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یوکرینی حکام نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر رواں سال کیف کے دفاعی بجٹ میں 27 ارب ڈالر کے خلا کو پُر کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق اس منصوبے میں یوکرین کے اپنے بجٹ کے وسائل کی ازسرنو تقسیم، دوطرفہ امداد اور 90 ارب یورو کے یورپی یونین کے قرض کے آئندہ سال کے حصے سے ’رقم کے کریڈٹس‘ کا استعمال شامل ہے۔