✕
اداریہ

معیشت کی صورتحال

شائع اپ ڈیٹ

فنانس ڈویژن نے ستمبر کی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا ہے جس میں کامیابیوں اور ناکامیوں کا ایک ملا جلا منظر پیش کیا گیا ہے۔ کامیابیاں بنیادی طور پر جاری ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد سے متعلق ہیں جبکہ ناکامیاں بڑی حد تک جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے وابستہ ہیں۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتیں اس آؤٹ لک کے لیے بدستور بنیادی خطرہ ہیں کیونکہ ان کے اثرات قوتِ خرید، پیداواری لاگت اور درآمدی بل پر پڑتے ہیں۔

کامیابیوں میں جاری کھاتے کے خسارے میں کمی بھی شامل ہے جو جولائی تا اگست 2026 میں 853 ملین ڈالر کے منفی سے کم ہو کر رواں سال کے انہی دو ماہ میں 543 ملین ڈالر کے منفی تک آ گیا۔

تاہم یہ کمی تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوئی، کیونکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 5.16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.16 ارب ڈالر ہوگیا جبکہ 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں صورتِ حال مختلف تھی۔ بلاشبہ اس کی ایک وجہ پاکستان کی بڑی درآمدی اشیا یعنی پٹرولیم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تھا جو تنازع کے نتیجے میں ہوا جب کہ مشرقِ وسطیٰ کو برآمدات میں 0.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے دو بڑے عوامل تھے۔

اولاً ترسیلاتِ زر کی آمد میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا جو زرمبادلہ ذخائر کمانے کا ایک مطلوبہ ذریعہ ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اضافہ تنازع کے باعث ہوا ہے، کیونکہ بعض دیگر ممالک کے شہریوں کے برعکس پاکستانی تارکینِ وطن نے وطن واپس آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

اور دوم قرضوں میں اضافہ ہوا، تاہم اس اضافے کی رفتار رواں سال کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں قرضوں کی شرحِ نمو 13 فیصد تھی۔

وزارتِ خزانہ کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنے والے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے مطابق اس کی وجہ مالیاتی استحکام، بنیادی بجٹ میں سرپلس اور سود کی ادائیگیوں میں کمی ہے۔ تاہم آزاد ماہرینِ معاشیات نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی بحران کے باعث سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی کے باوجود ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ نفاذِ قوانین کے ایسے اقدامات ہیں جن کے تحت اب تک تین شعبوں، بالخصوص چینی، سیمنٹ اور کھاد کی فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس وصولیوں کی زیادہ سخت جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔

ان بالواسطہ ٹیکسوں کا مجموعی اثر جن کا بوجھ امیروں کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے، غذائی مہنگائی میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے جس سے غریب اور کمزور طبقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 44 فیصد کی بلند سطح پر ہونے کے پیش نظر حکومت کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے بنیادی بجٹ سرپلس کو قابو میں رکھا ہے، تاہم اس سے مراد آمدنی میں سے اخراجات منہا کرنا ہے لیکن قومی قرض پر سود کی ادائیگیوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ سود کی ادائیگیاں مجموعی جاری اخراجات کا 46 فیصد اور مجموعی بجٹ کا 43 فیصد بنتی ہیں۔ یہ حساب اس مفروضے پر مبنی ہے کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ متوقع نہیں ،اگرچہ یہ مفروضہ ناکام ہوسکتا ہے کیونکہ تنازع کے باعث مہنگائی اگست 2025 میں 3.1 فیصد سے بڑھ کر اگست 2026 میں 11.1 فیصد ہوگئی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلے کے تحت لندن اسٹاک ایکسچینج پر 3 ارب ڈالر مالیت کا دو حصوں پر مشتمل خودمختار یورو بانڈ جاری کیا گیا جس پر ملٹی لیٹرل/دو طرفہ مالیاتی اداروں سے دستیاب شرح کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سود مقرر کی گئی ہے: 1.75 ارب ڈالر کا بانڈ ساڑھے 5 سال کے لیے 7.5 فیصد اور 1.25 ارب ڈالر کا بانڈ 10 سال کے لیے 7.9 فیصد کی شرح پر جاری کیا گیا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ اسے بجٹ کے تخمینے میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ یہ بانڈ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

حکومت کیلئے ایک اور تشویش کی بات بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار کی شرحِ نمو بھی ہونی چاہیے جو جولائی 2025 میں 8.93 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پورے سال کے 4.98 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ تھی جبکہ جولائی 2026 میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہو کر 3.03 فیصد رہ گئی۔ اس کی ایک وجہ یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافہ (آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کے باعث) اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ہوسکتی ہے جو جولائی تا اگست 2025 میں منفی 170 ملین روپے سے کم ہو کر جولائی تا اگست 2026 میں منفی 364.5 ملین روپے رہ گئی۔

آئندہ کے لیے اپ ڈیٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے: ”ترجیحات میں محصولات میں اضافے کے عمل کو تیز کرنا، ریلیف کے اقدامات کو عارضی اور ہدفی رکھنا اور توانائی اور ٹیکس اصلاحات میں پیشرفت کو برقرار رکھنا شامل ہونا چاہیے۔

یہ اقدامات ملکر معاشی استحکام کو مستحکم کریں گے اور نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد رکھیں گے۔ تاہم یہ امید کی جاسکتی تھی کہ آئندہ کے لیے سفارش یہ ہونی چاہیے تھی کہ ایسا ٹیکس ڈھانچہ تشکیل دے کر نافذ کیا جائے جو براہِ راست یا استطاعتِ ادائیگی کی بنیاد پر عائد کیے جانے والے ٹیکسوں کے ذریعے زیادہ محصولات کو یقینی بنائے جب کہ ٹیرف کا مقصد نااہلیوں اور غیر مؤثریتو کو کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کا بوجھ بے بس صارفین پر ڈالنا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026