اب آگے کیا کچھ غلط ہو سکتا ہے؟
- امریکی بانڈ کا بلند شرح منافع، مضبوط ڈالر اور مہنگا تیل پاکستان کے لیے مشکلات بڑھا سکتے ہیں
کسی نہ کسی طرح، ایسی سہ ماہی کے بعد بھی امریکی اسٹاکس ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے میں کامیاب رہے، جس دوران تیل کی قیمت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، حکومتی قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ کارپوریٹ بانڈز کو 2022 کے بعد بدترین سہ ماہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر مالیاتی منڈیاں واقعی مستقبل کی عکاسی کرتی ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا کسی نے اس کرسٹل بال کو صاف کرنا یاد رکھا تھا؟
تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بانڈ مارکیٹ نے پس پردہ موجود مالی دباؤ کی سب سے واضح تصویر پیش کی ہے۔ جولائی سے اب تک 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار میں 81 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے، جو 2022 کے بعد تین ماہ کے دوران سب سے بڑا اضافہ ہے۔ 30 سالہ ٹریژری کی پیداوار رواں ہفتے 5.621 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
یہ مندی صرف امریکا تک محدود نہیں رہی۔ جرمنی اور فرانس میں 10 سالہ بانڈز کے منافع کی شرح بالترتیب 17 اور 18 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ جاپان کی بینچ مارک شرح بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
تو پھر بانڈ مارکیٹس آخر ہمیں کیا بتانے کی کوشش کر رہی ہیں؟
اس سوال کے جواب کا ایک اہم حصہ اب بھی مشرق وسطیٰ سے جڑا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرنے کے غیر دانشمندانہ فیصلے کو سات ماہ گزرنے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے اثرات تیل کی مارکیٹ سے کہیں آگے پھیل چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات تنازع شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر بحال ہونے کے باوجود برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے۔ مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں، مرکزی بینکوں نے سخت مالیاتی پالیسی کا عندیہ دیا ہے اور سرمایہ کاروں کو تیزی سے توقع ہونے لگی ہے کہ شرح سود طویل عرصے تک بلند رہے گی۔
دونوں عوامل کے درمیان تعلق غیر معمولی حد تک مضبوط ہوگیا ہے۔ امریکی بینچ مارک تیل کی قیمت اور 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی پیداوار کے درمیان تعلق حال ہی میں 35 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جو پہلی خلیجی جنگ کے دوران قائم ریکارڈ سے معمولی کم ہے۔
اس صورتحال میں آبنائے ہرمز سے متعلق ہر مثبت خبر بانڈ مارکیٹ کے لیے اہم بن سکتی ہے جبکہ کشیدگی میں ہر نیا اضافہ فیڈرل ریزرو کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کی اہم ترین قرض لینے کی لاگت میں سے ایک کا انحصار دنیا کی خطرناک ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک کی صورتحال پر ہو تو سرمایہ کار کس حد تک مطمئن رہ سکتے ہیں؟
لیکن صرف تیل تمام صورتحال کی وضاحت نہیں کرتا۔ رواں ہفتے 30 سالہ امریکی ٹریژری کی پیداوار 24 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، حالانکہ خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں اور نیویارک فیڈ کے صدر جان ولیمز نے کہا کہ شرح سود میں ایک اور اضافے کے حوالے سے جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ حکومتی مالیات اب بھی دباؤ میں ہیں،
قرضوں کا اجرا بہت زیادہ ہے، معاشی نمو توقعات کے مقابلے میں مضبوط ثابت ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا بڑھتا ہوا رجحان سرمائے کی نئی اور بہت بڑی طلب پیدا کر رہا ہے۔ بظاہر بانڈ مارکیٹ بیک وقت کئی مسائل پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔اسی طرح پھر اسٹاکس ہیں، جو بظاہر اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
اسٹاک مارکیٹس نے بلند بانڈ پیداوار کو بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے کیونکہ کمپنیوں کی آمدنی مضبوط ہے، عالمی معاشی نمو برقرار ہے اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں جوش نے امریکی مارکیٹ کے سب سے بااثر حصے کو سہارا دیا ہوا ہے۔ تاہم جوں جوں بانڈ پیداوار بڑھتی جائے گی، حساب کتاب مزید دلچسپ ہوتا جائے گا۔ ٹریژری بانڈز اب ایکویٹی مارکیٹ کے خطرے کے بغیر زیادہ پرکشش منافع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ بلند ڈسکاؤنٹ ریٹس مستقبل کی کمپنیوں کی آمدنی کی موجودہ قدر کم کرتے ہیں۔
ہاؤسنگ، صارفین سے متعلق کمپنیاں، یوٹیلیٹیز اور شرح سود سے متاثر ہونے والے دیگر شعبے پہلے ہی دباؤ محسوس کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ کی کارکردگی کا انحصار ٹیکنالوجی پر بڑھتا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کتنا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟
یہ سوال چوتھی سہ ماہی میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج کا سیزن جلد ہی یہ جانچ کرے گا کہ مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر پر لگائی گئی بھاری سرمایہ کاری منافع اتنی تیزی سے پیدا کر رہی ہے یا نہیں کہ موجودہ بلند مالیت کا جواز فراہم کیا جاسکے۔
دوسری جانب اس سرمایہ کاری کے لیے درکار قرض کا حصول خود بھی بانڈ مارکیٹ میں نئے قرضوں کی فراہمی بڑھا رہا ہے جبکہ مارکیٹ پہلے ہی بھاری حکومتی قرضوں کے اجرا کو جذب کر رہی ہے۔
یوں وہ ٹیکنالوجی جس سے بلند شرح سود کے باوجود اسٹاکس کو تحفظ ملنے کی توقع ہے، بالواسطہ طور پر شرح سود کو بلند رکھنے والے دباؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔اس صورتحال میں ایک خاص طرح کی خوبصورتی ہے۔
فیڈرل ریزرو نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ستمبر میں شرح سود میں اضافہ تین سال میں پہلا اضافہ تھا اور پالیسی سازوں نے عندیہ دیا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل ایک اور اضافہ مناسب ہوسکتا ہے۔
مارکیٹس نے حال ہی میں اکتوبر میں شرح سود بڑھنے کی توقعات کم کردی ہیں، تاہم افراطِ زر اب بھی بلند ہونے کے باعث مجموعی طور پر سخت مالیاتی پالیسی کا عمل جاری ہے۔
اگر تیل کی قیمتیں مزید گرتی ہیں اور معاشی نمو سست پڑتی ہے تو شاید بانڈ کے منافع کی شرح بالآخر ایک حد پر رک جائے لیکن اگر ایران جنگ دوبارہ شدت اختیار کرتی ہے، آبنائے ہرمز میں خلل مزید بڑھ جاتا ہے یا مہنگائی کی توقعات مستحکم ہونے کے عین وقت پر ایک اور توانائی کا بحران پیدا ہوجاتا ہے تو کیا ہوگا؟
ایشیا کے پاس اس سوال پر نظر رکھنے کی خاص وجہ ہے۔ امریکا میں بلند بانڈ پیداوار عالمی سرمائے کو ڈالر کے اثاثوں کی جانب کھینچتی ہے اور نسبتاً زیادہ خطرے والی مارکیٹوں سے دور کرتی ہے۔ 25 ستمبر تک ایشیائی مارکیٹوں سے غیر ملکی ایکویٹی سرمایہ کے اخراج کا تخمینہ 192 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2025 کی گزشتہ بلند ترین سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ جن معیشتوں کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے، ان کی کرنسیوں پر عموماً زیادہ دباؤ پڑا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی مہنگائی بڑھتی ہے اور مقامی مرکزی بینکوں کو بھی شرح سود بڑھانے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جبکہ اسی دوران معاشی نمو دباؤ میں آتی ہے۔
پاکستان اس طریقہ کار سے بخوبی واقف ہے۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند پیداوار محفوظ ترین ڈالر اثاثوں میں سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع فراہم کرتی ہے، جس سے فرنٹیئر مارکیٹس کی جانب آنے والے سرمائے کے لیے مطلوبہ منافع کی حد بڑھ جاتی ہے۔
مضبوط ڈالر درآمدی اشیا اور بیرونی واجبات پر دباؤ بڑھاتا ہے جبکہ مہنگا تیل درآمدی بل اور مقامی مہنگائی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اگر یہ تینوں عوامل ایک ساتھ برقرار رہیں، یعنی امریکا میں بلند بانڈ پیداوار، مضبوط ڈالر اور توانائی کی بلند قیمتیں، تو اسلام آباد میں پالیسی سازوں کے پاس معیشت کو ان اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے واقعی کتنی گنجائش باقی رہ جائے گی؟
شاید یہی وجہ ہے کہ چوتھی سہ ماہی کے آغاز پر ریکارڈ بلند اسٹاک انڈیکسز کے مقابلے میں بانڈ مارکیٹ زیادہ توجہ کی مستحق ہے۔ اسٹاکس کمپنیوں کی آمدنی، مصنوعی ذہانت اور مستحکم معاشی نمو کو سراہ سکتے ہیں لیکن بانڈ مارکیٹ کو مسلسل مہنگائی، مالیاتی اعتبار، قرضوں کی فراہمی، مالیاتی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بانڈ مارکیٹ ان میں سے کسی بھی معاملے پر خاصی مطمئن دکھائی نہیں دی۔
شاید چوتھی سہ ماہی زیادہ سازگار ثابت ہو۔ تیل کی قیمتیں گر سکتی ہیں، سفارتی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں، مہنگائی کم ہوسکتی ہے اور بانڈز کی پیداوار بالآخر مستحکم ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ فیڈرل ریزرو کو بھی یہ احساس ہوسکتا ہے کہ ستمبر میں کیا گیا سخت پالیسی اقدام کافی ہوچکا ہے۔
مگر تیسری سہ ماہی کے بعد کون یہ شرط لگانا چاہے گا کہ اگلے مرحلے میں سب کچھ پرسکون رہے گا؟
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026