وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف مشن کے در میان مذاکرات کا آغاز
- آئی ایم ایف مشن ای ایف ایف انتظام کے چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو آئی ایم ایف مشن سے ملاقات کی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ابتدائی اجلاس منعقد کیا جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کررہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئی ایم ایف مشن پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت چوتھے جائزے اورآر ایس ایف کے تحت تیسرے جائزے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہے۔
آن لائن اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیوراشد لنگڑیال اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی شرکت کی۔
گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے عملے پر مشتمل مشن مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچا تھا۔
پیر کو حکومت نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیجی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں محصولات کا نقصان ہوا اور معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔
حکومت نے مشن کو یہ بھی بتایا کیا کہ لازمی اثاثہ ظاہر کرنے کے نظام کے تحت تقریباً 10 ہزار وفاقی سرکاری ملازمین کو 30 اکتوبر 2026 تک اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل طریقے سے ظاہر کرنا ہوں گی۔
پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرامز میں ای ایف ایف کے تحت توسیعی انتظام اور آر ایس ایف شامل ہیں۔
ای ایف ایف کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ستمبر 2024 کے آخری ہفتے میں دی تھی۔ 37 ماہ پر محیط اس پروگرام کی مالیت تقریباً 7 ارب ڈالر (5,320 ملین ایس ڈی آر) ہے۔
دریں اثنا پاکستان نے اکتوبر 2024 میں باضابطہ طور پر آر ایس ایف کے تحت انتظام کے لیے درخواست دی تھی۔ آر ایس ایف کے تحت 28 ماہ پر محیط نئے انتظام کے لیے عملے کی سطح کا معاہدہ (ایس ایل اے) 25 مارچ 2025 کو طے پایا جس کی مجموعی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر ہے۔ یہ معاہدہ ای ایف ایف کے پہلے جائزے کے ساتھ ہی طے ہوا تھا۔
آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف کے تحت چوتھے اور آر ایس ایف کے تحت تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ (ایس ایل اے) طے پانے کے بعد اس معاہدے کی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری لینا ہوگی۔
منظوری ملنے کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 200 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔
پاکستان دونوں انتظامات کے تحت پہلے ہی 4.8 ارب ڈالر وصول کرچکا ہے۔