سندھ، شہری جائیداد ٹیکس کا دائرہ 21.5 لاکھ جائیدادوں تک بڑھانے کی تیاری
- منصوبے کے تحت جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی گھر گھر سروے کیا جائے گا
سندھ حکومت عالمی بینک کے تعاون سے 15 کروڑ ڈالر کے پروگرام کے تحت شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی مالیاتی نظام مضبوط کرنے کے لیے ریکارڈ شدہ شہری جائیدادوں کا دائرہ پانچ گنا سے زائد بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام کے تحت 20 مقامی کونسلوں میں ریکارڈ شدہ جائیدادوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ 97 ہزار 375 سے بڑھا کر 21 لاکھ 49 ہزار 80 کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پروگرام کے لیے عالمی بینک سے 11 کروڑ ڈالر پروگرام فار رزلٹس اور 4 کروڑ ڈالر انویسٹمنٹ پروجیکٹ فنانسنگ کے تحت فراہم کیے جائیں گے، جبکہ محکمہ بلدیات سندھ اس کا نفاذ کرے گا۔
دستاویز کے مطابق انویسٹمنٹ پروجیکٹ فنانسنگ کے تحت شامل پانچ ڈویژنز میں اس وقت اندازاً 21 لاکھ جائیدادوں میں سے صرف تقریباً ایک 20 فیصد حصہ شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کے ریکارڈ میں شامل ہے۔
منصوبے کے تحت جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی گھر گھر سروے کیا جائے گا، جس میں رہائشی اور تجارتی املاک کا معائنہ کرکے ان کے استعمال، ملکیت اور دیگر خصوصیات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ جائیدادوں کی جغرافیائی نشاندہی کرکے انہیں نئے ٹیکس مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں شامل کیا جائے گا۔
یہ پروگرام کراچی کے علاوہ پانچ ڈویژنز کی 20 مقامی کونسلوں میں نافذ ہوگا، جن میں حیدرآباد کی 9، سکھر کی 3، لاڑکانہ کی 4، میرپورخاص کی 2 اور شہید بینظیرآباد کی 2 کونسلیں شامل ہیں۔ تاہم ادارہ جاتی بہتری کا دائرہ تمام 45 مقامی کونسلوں، بشمول کراچی کی 25 کونسلوں، تک پھیلایا جائے گا۔
منصوبے کے تحت بورڈ آف ریونیو زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل اور اپ ڈیٹ کرے گا، جبکہ زمین اور ٹیکس نظام کو مربوط کرنے کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلان اور بجٹ، اکاؤنٹنگ، تنخواہوں اور اخراجات کے انتظام پر مشتمل مربوط مالیاتی نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سروے سے جائیداد مالکان، کرایہ داروں اور کاروباری افراد سے براہ راست سرکاری رابطہ بڑھے گا، اس لیے ریکارڈ کی درستگی، رازداری اور سروے عملے کی شناخت سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ سروے کا مقصد ریکارڈ تیار کرنا ہوگا اور اسے بذات خود ٹیکس ڈیمانڈ تصور نہیں کیا جائے گا۔
پروگرام کے تحت شہریوں کو ریکارڈ دیکھنے اور غلطیوں کی اصلاح کے لیے سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ خواتین، بزرگوں، معذور افراد، کم آمدنی والے گھرانوں اور غیر رسمی آبادیوں کے لیے خصوصی مشاورتی نشستوں اور خواتین سروے اہلکاروں کا انتظام بھی تجویز کیا گیا ہے۔
منصوبے میں ٹاؤن سٹیزن کمیٹیوں کے قیام کی بھی تجویز ہے، جن میں دو مرد شہری، دو خواتین شہری اور ایک مقامی کونسل رکن شامل ہوگا۔ یہ کمیٹیاں ماہانہ اجلاس کرکے عوام اور پروگرام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026