امریکا، ایران جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کرنے لگے، خام تیل کی قیمتیں 3 فیصد گر گئیں
- برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 2.96 ڈالر، یعنی 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 103.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو تقریباً 3 فیصد گر گئیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث مارکیٹ پر دباؤ رہا، تاہم تاجروں کو خدشہ تھا کہ سعودی عرب پر حوثی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے مشرق وسطیٰ کے اس اہم تیل پیدا کرنے والے ملک سے رسد متاثر ہوسکتی ہے۔
دوپہر 12:12 بجے امریکی مشرقی وقت (1612 جی ایم ٹی) تک برینٹ خام تیل کے فیوچرز کی قیمت 2.96 ڈالر، یعنی 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 103.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.86 ڈالر، یعنی 3 فیصد کمی کے ساتھ 91.75 ڈالر فی بیرل رہی۔
اس طرح رواں ہفتے برینٹ کی قیمت میں تقریباً 1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار جنگ سے مرحلہ وار نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں، جس کے تحت تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے گا جبکہ واشنگٹن ایران کی معاشی ناکہ بندی ختم کرے گا۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے، جس کے باعث سعودی، ترک اور پاکستانی فوجی سربراہان سعودی عرب کی معاونت پر بات چیت کریں گے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا، ’’سفارتی امیدیں بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں حالیہ فوجی حملوں کے اثرات برداشت کرنے میں تیل کی قیمتوں کی مدد کر رہی ہیں اور حملوں کے باوجود خام تیل کی تجارت میں معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔‘‘
حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف حملے کیے ہیں اور سعودی عرب پر بھی بارہا حملے کیے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگ کا حصہ ہیں، جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی۔
خام تیل کی ترسیل جاری
کےپلر کے ابتدائی بحری جہازوں سے باخبر رہنے والے اعداد و شمار کے مطابق 20 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل 3 کروڑ 37 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برآمدات گزشتہ ہفتے کی سطح کے لگ بھگ برقرار ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 19 ٹینکرز نے آمدورفت کی، جن میں 17 انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز (وی ایل سی سی) شامل ہیں، جو 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیشتر ٹینکرز سعودی عرب کے خام تیل سے لدے ہوئے ہیں، جس کے بعد عراق کا نمبر ہے۔
ایران جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔
امریکا میں واشنگٹن کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی کی باتوں کے باعث امریکی خام تیل کے فیوچرز اور عالمی معیار برینٹ کے درمیان قیمتوں کا فرق بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کو توقع ہے کہ اگر امریکی ریفائنریوں میں تیار ہونے والا ڈیزل ملکی منڈی تک محدود ہوگیا تو ریفائنریاں خام تیل کی کم مقدار پراسیس کریں گی۔
جمعرات کو برینٹ خام تیل پر ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں اضافی قیمت مسلسل دوسرے روز بڑھ کر مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
علاوہ ازیں، امریکی سفیر برائے چین ڈیوڈ پرڈیو نے جمعہ کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کے دوران واضح کردیا تھا کہ چین کی جانب سے ایران کی مدد ناقابل قبول ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے کسی بھی معاہدے سے اقتصادی نمو اور توانائی کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
روس اور یوکرین
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات کو یوکرین اور روس کے ساتھ سہ فریقی اجلاس کی میزبانی کی تجویز دی ہے، جس میں ساڑھے چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں پر بات چیت کی جائے گی۔
روس میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں نووشاختنسک آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا، جس کے باعث اسے عارضی طور پر کام معطل کرنا پڑا، روسی گورنر یوری سلیوسر نے بتایا۔
روس کی ریفائنریوں پر شدید ڈرون حملے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں کیف اور ماسکو کے درمیان توانائی سے متعلق ممکنہ جنگ بندی پر ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئے۔
روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے کسی بھی معاہدے سے روس کو مزید توانائی برآمد کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ امریکی توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اوپیک پلس کا رکن روس 2025 میں امریکا اور سعودی عرب کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل پیدا کرنے والا ملک تھا۔