✕
پاکستان

پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات

  • وزیر اطلاعات نے شہر میں لاک ڈاؤن لگانے کی تردید کردی
شائع اپ ڈیٹ

اسلام آباد میں حکام نے مرکزی داخلی راستوں کو دہری تہہ میں رکھے گئے شپنگ کنٹینرز سے بند کردیا، یہ اقدام جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ہفتے کے آخر میں متوقع احتجاج سے قبل کیا گیا۔

حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسلام آباد کو بند رکھنے کے لیے 22 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پڑوسی صوبے خیبرپختونخوا سے شہر میں داخلے اور باہر جانے کے راستے بھی بند کردیئے گئے ہیں، جہاں عمران خان کی جماعت کی حکومت ہے۔

اسی طرح اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، جس سے ٹرانسپورٹ کا رابطہ تقریباً مکمل طور پر منقطع اور آمدورفت عملاً معطل ہوگئی۔

سڑکوں پر گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی نظر آئیں، جبکہ موٹر سائیکل سوار کنٹینرز کے درمیان موجود خالی جگہوں سے گزرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اتوار کو ہونے والے متوقع احتجاج سے قبل حکومت کی جانب سے کارروائی میں رواں ہفتے اس وقت مزید شدت آئی جب عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔

اے ایف پی کے صحافیوں کے ہاتھ لگنے والے حکم نامے کے مطابق حکام کی جانب سے جاری 30 روزہ حفاظتی حراست کے احکامات میں ان پر ’’سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں کو متحرک کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا۔

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ، علاقائی رہنماؤں اور اپوزیشن کارکنوں کو بھی پنجاب کے متعدد اضلاع اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حراست میں لیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تقریباً 1,500 پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان میں جاری سیاسی تعطل کے دوران بڑھتی ہوئی پریس سنسرشپ، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بابو رام پنت نے کہا کہ عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنانا آزادی، آزادی اظہار، انجمن سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان میں موجودہ پابندیوں کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

73 سالہ سابق کرکٹ اسٹار اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں کرپشن سے غداری اور تشدد پر اکسانے تک متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات مئی 2023 میں ہونے والے بڑے پیمانے کے حکومت مخالف فسادات کے بعد عائد کیے گئے۔

عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات قرار دیتی ہے جن کا مقصد ان کی مقبولیت کو محدود کرنا ہے۔

رواں سال عمران خان نے طبی علاج بھی کرایا، جبکہ ان کے خاندان اور وکیل کا کہنا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی زیادہ تر بینائی متاثر ہوچکی ہے۔

اقتدار میں عروج کے دوران ملک کے طاقتور فوجی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے والے عمران خان اہم تقرریوں اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات کے بعد ان سے دور ہوگئے اور اپریل 2022 میں پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیے گئے۔

عمران خان نے فوجی قیادت پر عوامی طور پر انہیں اقتدار سے ہٹانے اور مسلسل سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

دارالحکومت کی جانب مارچ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پی ٹی آئی کی کئی ماہ بعد پہلی بڑی عوامی احتجاجی سرگرمی ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیے جانے کی تردید کی۔

عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں، کسی کو شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دریں اثنا جماعت اسلامی اور کسان یونین کے رہنماؤں کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم لیویز کے خلاف پہلے سے اعلان کردہ احتجاج کو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے ساتھ رابطے کے بعد معطل کردیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کی جماعت اب اکیلے مارچ کرے گی۔