✕
بی آر ریسرچ

ڈسکوز کی نجکاری، کے الیکٹرک سے کیا سبق سیکھا؟

  • پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اب بھی اظہارِ دلچسپی کے مرحلے پر ہیں اور پیش رفت کے لحاظ سے پیچھے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

کافی عرصے سے زیر التوا نجکاری کا ایجنڈا اب رفتار پکڑ رہا ہے۔ خسارے میں جانے والی ایئرلائن پی آئی اے کا معاملہ بالآخر نمٹا دیا گیا ہے۔ اب وہ عملے کی یونیفارم کو حتمی شکل دینے کے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند منظر ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اب بھی اظہارِ دلچسپی کے مرحلے پر ہیں اور پیش رفت کے لحاظ سے پیچھے ہیں۔

تاہم نجکاری کے عمل پر بات کرتے ہوئے کے الیکٹرک (کے ای) کے معاملے میں حال ہی میں پیش آنے والی صورتحال کا ذکر کیے بغیر بات مکمل نہیں ہوسکتی، کیونکہ ریگولیٹر کے اپیلیٹ ٹریبونل نے کمپنی کی کثیر سالہ ٹیرف درخواست مسترد کردی ہے۔ کئی تجزیہ کار پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کے الیکٹرک کو تقریباً 32 روپے کے ٹیرف پر برقرار رکھنے کا فیصلہ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

ڈسکوز جو ملک بھر میں اپنے مقررہ علاقوں میں کام کرتی ہیں، ان کا کم خوش آئند کام عوام کا سامنا کرنا، بل وصول کرنا، شکایات اور بجلی کی بندش سے نمٹنا، اور نیٹ ورک کی دیکھ بھال کرنا ہے۔ تاہم جب ان کی نجکاری اور فروخت کی بات آتی ہے تو ذمہ داری کہیں زیادہ بڑی ہوجاتی ہے۔

معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے نجکاری کمیشن نے نجی کاری کے لیے مختص ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی طلب کیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم اس بات کی تفصیل میں جائیں کہ نجکاری کس طریقہ کار کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔

حالیہ فیصلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے کے الیکٹرک میں شنگھائی الیکٹرک کی دلچسپی موجودہ نجکاری مہم کے لیے بھی ایک معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ تقریباً نو سال کی تاخیر کے بعد شنگھائی الیکٹرک پاور نے ستمبر 2025 میں کے الیکٹرک میں اکثریتی حصص حاصل کرنے کے لیے اپنی 1.77 ارب ڈالر کی پیشکش ختم کردی۔ کمپنی نے اس کی وجہ مطلوبہ شرائط پوری نہ ہونا اور پاکستان کے کاروباری اور ضابطہ جاتی ماحول میں منفی تبدیلی کو قرار دیا۔

اگر یہ معاہدہ مکمل ہوجاتا تو 1.77 ارب ڈالر کی یہ خریداری ایک فیصلہ کن تبدیلی کا باعث بنتی۔ یہ 2007 سے 2009 کے دوران ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی دلچسپی کی نمائندگی کرتی۔ مالی اثرات کے علاوہ، علم اور مہارت کی منتقلی پاکستان کے بجلی کے شعبے کو اس ضروری اصلاحات کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتی تھی جو اس کی تبدیلی کے لیے درکار ہیں۔ چین کے آٹو سیکٹر کی بڑی کمپنیوں کی شمولیت پاکستان کی گاڑیوں کی کمپنیوں میں نمایاں ہل چل مچا چکی ہے۔

اگر یہ قبضہ یا حصول کامیاب ہوجاتا تو اس سے ایسی نجکاری کے ماڈل کو عملی اعتبار حاصل ہوتا جو محض مالیاتی مقاصد کے بجائے اسٹریٹجک آپریٹرز اور ان کی کاروباری محرکات پر مبنی ہوتا۔ موجودہ نجکاری مہم کے پاس فروخت کے لیے ایک عملی نمونہ موجود ہوتا اور کارکردگی پر مبنی ضابطہ کاری کے لیے ایک حقیقی معیار بھی قائم ہوجاتا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہوتی کہ پاکستان خود کو ایسے ملک کے طور پر منوا لیتا جہاں گردشی قرضے اور پالیسی خطرات کے باوجود بجلی کے شعبے میں پیچیدہ اور بلند مالیت کے معاملات سے نمٹنے کی عملی صلاحیت موجود ہے۔

تاہم، یہ معاملہ بالآخر اس بات کی محض ایک مثال بن کر رہ گیا کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کس طرح ایسی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتی ہے جس میں نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔

شنگھائی الیکٹرک کے دستبردار ہونے کے فیصلے میں ایک اور اہم عنصر نیپرا کی جانب سے 2018 میں جاری کیا گیا ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) تھا۔ اس نے منافع میں نمایاں کمی کی اور کے الیکٹرک کی قدر میں کمی کردی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی قدر کا دوبارہ جائزہ لینا پڑا۔

بجلی کی یوٹیلیٹی کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف اس کے کاروبار چلانے کی لاگت کا تعین کرتا ہے اور صارفین کے ٹیرف سے الگ ہوتا ہے، جو یکساں اور علیحدہ طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔ کسی بھی غیر متوقع کمی یا نظرثانی سے سرمایہ کاروں کے لیے کسی حصول کا معاملہ ناقابل عمل ہوسکتا ہے اور نتیجتاً معاہدہ ختم ہوسکتا ہے، جیسا کہ اس معاملے میں دیکھنے کو ملا۔

اب 2026 میں کے الیکٹرک کو مالی سال 2024 سے مالی سال 2030 کے کنٹرول پیریڈ کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف کا سامنا ہے، جس کا فیصلہ 2023 میں جاری ہوجانا چاہیے تھا۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کمپنی خود اس بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے کہ وہ روزمرہ کے آپریشنز کیسے چلائے گی، مزید سرمایہ کاری کرنا تو دور کی بات ہے۔ کراچی میں کام کرنے والی ایک یوٹیلیٹی کے لیے، جو پاکستان کا سب سے اہم اقتصادی اور سماجی مرکز ہے، یہ صورتحال بہت کچھ بیان کرتی ہے۔

لیکن پہلے بنیادی بات: حکومت کا نجکاری ایجنڈا۔ وزارتِ نجکاری کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق نجکاری کمیشن ممکنہ سرمایہ کاروں اور بجلی کے شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطہ کرے گا تاکہ موجودہ ڈسکو ٹیرف اسٹرکچر، ملٹی ایئر ٹیرف نظام، کاروباری ماڈل اور مسابقتی سپلائرز کے لیے فریم ورک کو بہتر بنایا جاسکے۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد کارکردگی اور استعداد پر مبنی منافع کا نظام تشکیل دینا ہے، جبکہ نجی شعبے کے خریداروں کو اضافی کاروباری مواقع کے لیے ڈسکو کے بنیادی ڈھانچے اور صارفین کے وسیع حلقے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔

بجلی کے شعبے میں کارکردگی اور استعداد کو بڑی حد تک دو پیمانوں سے ناپا جاتا ہے: ترسیل اور تقسیم کے نقصانات (ٹی اینڈ ڈی لاسز) اور وصولی کے تناسب۔ فروخت کے لیے پیش کی جانے والی تینوں ڈسکوز کے ان پیمانوں کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں تاریخی طور پر ایک ہندسے میں ٹی اینڈ ڈی نقصانات اور اوسطاً 98 فیصد سے زیادہ وصولی کا تناسب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی چیز خراب نہیں ہے تو ہم اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں؟

اسی ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ضابطہ جاتی شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ایک قابل پیش گوئی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

ہمارے پاس نجکاری کی جو واحد کہانی بیان کرنے کے لیے موجود ہے، وہ اس کے برعکس ثابت ہوتی ہے۔ شنگھائی الیکٹرک اور کے الیکٹرک کا معاملہ واضح کرتا ہے کہ ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال، ٹیرف میں ازسرنو تبدیلی اور گردشی قرضہ بجلی کی تقسیم کار یوٹیلیٹیز میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور اور بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ٹریبونل کا تازہ ترین فیصلہ ایک اور سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔

نجکاری کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے ضابطہ جاتی یقین دہانی کلیدی حیثیت رکھے گی۔ یہ یقین دہانی مضبوط ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) مختص کرنے میں مضمر ہے۔ کاروبار چلانے کی لاگت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو سرمایہ کاروں کی جانب سے سرد ردعمل کا سامنا کرنا متوقع ہے، جبکہ منافع میں نمایاں تبدیلیاں، جیسا کہ 2018 میں دیکھنے کو ملیں، اس بات کے ازسرنو جائزے کا باعث بن سکتی ہیں کہ کمپنی دراصل ان کے لیے کتنی مالیت رکھتی ہے۔

لہٰذا موجودہ نجکاری کے مقاصد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پالیسی کے راستوں اور ضابطہ جاتی طریقہ کار کا مقصد بار بار ہونے والے مالیاتی اخراجات کا خاتمہ، خدمات کی فراہمی میں بہتری اور آپریشنل نظم و ضبط متعارف کرانا ہونا چاہیے۔ اگر خریدار کے منافع کی ضمانت دے کر، اسے کاروباری خطرات سے محفوظ رکھ کر اور ہر قسم کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر منتقل کرکے زیادہ فروختی قیمت حاصل کرلی جائے تو یہ حساب کتاب کے اعتبار سے کامیابی ضرور ہوگی، لیکن پالیسی کے اعتبار سے ناکامی ہوگی۔

کوئی بھی شخص آئی پی پی معاہدوں اور 20 سال بعد شرائط پر دوبارہ مذاکرات کی صورتحال کو دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ بجلی کا شعبہ اور اس کے صارفین پہلے ہی بہت کچھ برداشت کرچکے ہیں۔

شاید شنگھائی الیکٹرک کا معاملہ حکومت کے لیے سیکھنے کے لیے ایک ضروری سبق تھا۔ آخرکار، تجربہ بہترین استاد ہوتا ہے۔ تاہم، اگر کوئی شخص ہماری طرح طویل عرصے تک پاکستان میں رہ چکا ہو اور اس کی معیشت کو دیکھتا رہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔