سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل حملے، تیل 4 فیصد مہنگا
- برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.10 ڈالر یا 4 فیصد اضافے سے 107.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی
یمن کے حوثیوں کی جانب سے جمعرات کو سعودی عرب پر میزائل داغے جانے اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات میں پیش رفت کے کم آثار کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً 4 فیصد بڑھ کر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
مشرقی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 9 منٹ (گرین وچ مین ٹائم کے مطابق 1509 بجے) برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.10 ڈالر یا 4 فیصد اضافے سے 107.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 3.66 ڈالر یا 4 فیصد بڑھ کر 95.82 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
گزشتہ دو روز کے دوران تقریباً 8 فیصد اضافے کے بعد برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 15 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہونے کی جانب گامزن تھی۔ دوسری جانب ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت مسلسل 6 روز کی تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 7 روز میں پہلی مرتبہ اضافے کی جانب بڑھ رہی تھی۔
یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے بتایا کہ سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کی جانب سے داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا، جس کے نتیجے میں جنوبی صوبے طائف اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے ینبع کو نشانہ بنانے والے حملے ناکام بنا دیے گئے۔
ایران کی خلیجی ہمسایہ ممالک، بشمول دبئی جیسے اہم سفری مرکز، کے لیے پروازیں جمعرات کو بظاہر منسوخ کردی گئیں، جس کے بعد عالمی کمپنیوں کو ایران کی ایئرلائنز کے ساتھ کام روکنے کے لیے امریکا کی مقررہ مہلت ختم ہوگئی۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’’معاشی ڈی ڈے‘‘ قرار دی گئی مہم میں ایک اہم قدم ہے۔
میدان جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کئی ماہ سے بڑی حد تک تعطل کا شکار رہنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنا کر امریکی مالیاتی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اس طرزِ عمل کو ’’ثانوی پابندیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔
ایران نے بدھ کے روز دھمکی دی کہ وہ اپنی پروازوں پر امریکی پابندی کی تعمیل کرنے والے کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا اور ان کے ہوائی اڈوں کو ’’ناقابلِ استعمال‘‘ بنا دے گا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا کہ جنگ کے خاتمے کے طریقۂ کار پر ایران اور امریکا کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، لیکن سفارت کاری کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ یہ بیان ایرانی صدر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس عزم کے اظہار کے بعد سامنے آیا کہ تہران کبھی بھی امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
دوسری جانب، صنعتی ذرائع، سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق، سعودی عرب اپنی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کے ذریعے خام تیل کی پمپنگ کا حجم بڑھا رہا ہے؛ یہ پائپ لائن بحیرہ احمر پر واقع برآمدی مرکز ’ینبع‘ تک جاتی ہے، اگرچہ خام تیل کے ٹینکروں میں لوڈنگ کا عمل ابھی تک دوبارہ شروع نہیں ہوا ہے۔
ڈیزل کی قیمتیں
حالیہ ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد یورپی یونین اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری ہیں۔ یہ رابطے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ امریکی پابندی کے حوالے سے ہیں؛ یورپی یونین کا ماننا ہے کہ ایسی کسی بھی پابندی کا دونوں فریقین پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ کے مطابق، نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر امریکا ڈیزل کی برآمدات پر 90 دن کی پابندی عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس خبر کی تردید کی ہے۔
تجزیہ کاروں اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی ڈیزل برآمدی پابندی سے توانائی کی بلند قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے، بلکہ اس سے عالمی رسد کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور معیشتوں میں خلل پڑ سکتا ہے۔ جمعرات کی صبح کے آخری پہر میں امریکی ڈیزل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔
ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم
جمعرات کو مسلسل دوسرے روز ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کا پریمیم مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ڈبلیو ٹی آئی کے مقابلے میں برینٹ کا پریمیم زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توانائی کمپنیوں کے لیے برآمدی مقصد سے خام تیل اٹھانے کی خاطر امریکا جہاز بھیجنا زیادہ کفایت بخش ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹینکر کرائے پر لینے کی لاگت میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی برآمدات میں کمی آئی ہے جو اس سال کے اوائل میں ریکارڈ سطح پر تھیں۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کی برآمدات صرف 33 لاکھ بیرل روزانہ رہیں؛ یہ اپریل میں ریکارڈ کی گئی 64 لاکھ بیرل روزانہ کی ہفتہ وار بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہیں، جب جہاز کرائے پر لینے کی لاگت بہت کم تھی۔