✕
رائے

مہنگائی کے امکانات

  • یہ بعید از امکان نہیں کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کی موجودہ سطح سے مزید بڑھ جائے اور پھر دو ہندسوں میں برقرار رہے
شائع اپ ڈیٹ

جنوری 2026 میں مہنگائی کی شرح نسبتاً کم 5.8 فیصد تھی، تاہم اس کے بعد مسلسل اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ فروری 2026 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد مارچ میں مہنگائی بڑھ کر 7.3 فیصد ہوگئی، جبکہ اگست 2026 تک یہ دو ہندسوں میں پہنچ کر 11.1 فیصد ہوگئی۔

اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت ہفتہ وار مہنگائی کی شرح گزشتہ ہفتے 10.6 فیصد ہوگئی، جو اس سے پچھلے ہفتے 8.6 فیصد تھی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل یہ شرح محض 4.2 فیصد تھی۔

تاہم، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اگست 2026 کی اپنی حالیہ مالیاتی پالیسی رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان بتدریج تبدیل ہوگا اور جون 2027 تک یہ کم ہوکر 5 سے 7 فیصد کی حد کے بالائی حصے تک پہنچ جائے گی۔ یہی حد 2026-27 کے آغاز میں بھی مہنگائی کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

ملک میں مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے میں زری اور شرحِ مبادلہ کی پالیسیوں کے ذریعے ایس بی پی کا کردار نہایت اہم ہے۔ 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی میں کمی کے حوالے سے مرکزی بینک کی امید بنیادی طور پر اس مفروضے پر مبنی دکھائی دیتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع چند ماہ میں ختم ہوجائے گا اور عالمی تجارت معمول پر آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوگی۔

تاہم، ایس بی پی کی زری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی میں کمی کے اس منظرنامے کو کئی بڑے خطرات سے مشروط کیا ہے۔ اس مثبت نتیجے کے لیے عالمی اجناس، بالخصوص ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ محدود رہنا ضروری ہوگا۔ گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کو بھی محدود رکھنا ہوگا، جبکہ رسد میں ایسی رکاوٹیں بھی نہیں آنی چاہئیں جو، مثال کے طور پر، غذائی اشیا کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے کا سبب بنیں۔

مہنگائی کی شرح کے تخمینے کے لیے ان عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے جنہوں نے جنوری 2026 کے بعد اس میں اضافے میں کردار ادا کیا۔

تجزیے کے پہلے حصے میں اگست 2026 کی 11.1 فیصد مہنگائی کو مختلف اشیا اور خدمات کے گروپوں میں تقسیم کرکے دیکھا جائے تو توقع کے مطابق سال بہ سال بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 20.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد غذائی اشیا کا نمبر آتا ہے، جن کی قیمتوں میں 13.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ کے گروپ میں موٹر ایندھن کی قیمت سب سے زیادہ 24.5 فیصد بڑھی۔

غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح گندم کے آٹے، پیاز اور ٹماٹر میں بالترتیب 73.1 فیصد، 124.3 فیصد اور 128.1 فیصد رہی۔

صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایندھن کی قیمتوں کے مہنگائی پر صرف براہِ راست اثر کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں غذائی اشیا اور صارفین کی وسیع اقسام کی اشیا کی نقل و حمل کی لاگت میں اضافے کا اثر کہیں زیادہ بڑا ہے۔ ان اشیا کی قیمتوں میں ٹرانسپورٹ لاگت کا تخمینہ تقریباً 15 سے 20 فیصد ہے۔

اگست 2026 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سال بہ سال بنیاد پر مہنگائی پر براہِ راست اور بالواسطہ مجموعی اثر 3.8 فیصد پوائنٹس رہا، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح تقریباً 11 فیصد تھی۔ اس طرح مہنگائی کا 35 فیصد حصہ ایندھن کی لاگت میں اضافے سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگست 2026 کی مہنگائی میں تقریباً 20 فیصد حصہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا تھا۔

پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی قابل ذکر ہے۔ اگست 2026 میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے معاملے میں 34.4 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 26.6 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اوگرا کی جانب سے 21 جولائی کو روزانہ قیمتوں کے تعین کا نظام متعارف کرائے جانے کے بعد ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 17.1 فیصد جبکہ پٹرول کی قیمت میں 22.9 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں مہنگائی کا بڑا حصہ حالیہ مہینوں میں سامنے آیا ہے۔

ایس بی پی کا جنگ کے خاتمے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اعتدال کا تخمینہ اس صورت میں درست ثابت ہوسکتا ہے اگر امریکی صدر کی یہ توقع پوری ہوجاتی ہے کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہوجائے گی۔ تاہم گزشتہ چھ ماہ کے دوران رسد میں پیدا ہونے والی کمی کو دیکھتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم ہونے اور پھر تیزی سے کم ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

دیگر خطرات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے جو مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پہلا مسئلہ 2026-27 کی فصلوں کے سیزن میں کھاد کی ممکنہ قلت ہے۔ بالخصوص قطر سے برآمدات نہ ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمد محدود ہونے کا امکان ہے۔ پہلے ہی ایل این جی کی درآمد میں 36 فیصد کمی آچکی ہے۔ اسی طرح کھاد کی درآمد 15 فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے، جبکہ مقامی پیداوار میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی ہے۔

اگر یہ رجحان برقرار رہا تو زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے کھاد کا استعمال بتدریج محدود ہوتا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں، خصوصاً غذائی اشیا کی پیداوار متاثر ہونے سے، 2026-27 کے دوسرے نصف میں غذائی قیمتوں میں مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہوسکتی ہے۔

مہنگائی کی شرح شرحِ مبادلہ کی نقل و حرکت سے بھی منسلک ہے۔ اندازہ ہے کہ روپے کی برائے نام قدر میں ایک فیصد کمی کے نتیجے میں بالآخر صارف قیمت اشاریے میں 0.31 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے تقریباً دو برس سے روپے کی برائے نام قدر مستحکم رہی ہے۔ تاہم ایس بی پی کے تخمینے کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایندھن اور دیگر توانائی مصنوعات کی درآمدی قیمتوں میں اضافے کے باعث آنے والے مہینوں میں جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا ہے تو روپے پر دباؤ پڑسکتا ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر کو مارکیٹ کے ذریعے زیادہ متعین ہونے پر زور دے رہا ہے۔

مجموعی طور پر یہ بات حیران کن ہے کہ ایس بی پی کی مالیاتی پالیسی کمیٹی نے 2026-27 کے دوسرے نصف میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی توقع ظاہر کی ہے، جس کے مطابق موجودہ تقریباً 11 فیصد شرح کم ہوکر 7 فیصد کے قریب آجائے گی۔ یہ توقع اس اندازے کے برعکس ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ جاری رہتی ہے اور آبنائے ہرمز اور اب بحیرہ احمر کے جنوبی راستے کی بندش کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قلت برقرار رہتی ہے تو قیمتوں کے رجحان میں تبدیلی آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔

یہ بات بعید از امکان نہیں کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کی موجودہ سطح سے کچھ مزید بڑھ جائے اور پھر دو ہندسوں میں برقرار رہے، جبکہ 2026-27 کے اختتام تک بنیادی مہنگائی کی شرح تقریباً 10 فیصد رہ سکتی ہے۔ ایس بی پی کو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے حوالے سے اپنے تخمینے کا ازسرنو جائزہ لینے اور اسی مناسبت سے پالیسی ریٹ میں ردوبدل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026